مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ" , فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ، فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتَهُ حَتَّى مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیاراوی کہتے ہیں کہ وفات تک پھر ان کا یہی معمول رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6263]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .