بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 33 از 102
حدیث نمبر: 5088 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ"، وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ إلَا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ، فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ، وَلَا يُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمٌ بَيْنِي وَبَيْنَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا، شہادتین کا اقرار کیا اور فرمایا: امابعد! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے، اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت توڑے اور نہ ہی امر خلافت میں جھانک کر بھی دیکھے، ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7111، م: 1735.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7111، م: 1735.
حدیث نمبر: 5089 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، رَجُلٌ ، فُلَانٌ ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ" فَنُووِلَ ذِرَاعًا، فَأَكَلَهَا، قَالَ يَحْيَى: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ" فَنُووِلَ ذِرَاعًا، فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَالَ" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ، فَقَالَ:" وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَالِمٌ : أَمَّا هَذِهِ فَلَا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ روٹی اور گوشت کھانے میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک دستی دینا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دستی دے دی گئی، جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تناول فرما لی اس کے بعد فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی تناول فرما لیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو، کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ!! ایک بکر ی میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ کی قسم! اگر تو خاموش رہتا تو میں جب تک تم سے دستی مانگتا رہتا مجھے ملتی رہتی، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا: یہ بات تو بالکل نہیں ہے کیونکہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5089]
حکم دارالسلام
هذا الحديث حديثان: قصة الذراع، وإسنادها ضعيف لإبهام الرجل الغفاري، ولكن لها شاهد من حديث أبى هريرة سيرد 2/ 517 وإسناده حسن، والحديث الثاني: النهي عن الحلف بالآباء وإسناده صحيح، م: 1646.
الحكم: هذا الحديث حديثان: قصة الذراع، وإسنادها ضعيف لإبهام الرجل الغفاري، ولكن لها شاهد من حديث أبى هريرة سيرد 2/ 517 وإسناده حسن، والحديث الثاني: النهي عن الحلف بالآباء وإسناده صحيح، م: 1646.
حدیث نمبر: 5090 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنْ" نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ! فَقَالَ: وَمَا هُوَ؟ قُلْتُ: سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ، حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیررحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کسی نے ان سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، یہ سن کر مجھ پر بڑی گرانی ہوئی، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے پوچھا مٹکے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5091 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَقْتُلُ مِنَ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ: الْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1199.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1199.
حدیث نمبر: 5092 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّاسِ وَقَدْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُطْبَةِ، فَقُلْتُ: مَاذَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا:" نَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی، میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا، لیکن ابھی کچھ سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997 .
حدیث نمبر: 5093 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حَنِثٍ، أَوْ قَالَ: غَيْرَ حَرَجٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے، اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیررجوع کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5094 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ" فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5095 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي سُوقٍ ثَوْبًا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ ابْتَعْتَ هَذَا الثَّوْبَ لِلْوَفْدِ، قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ: هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ:" فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَاكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ مِنْهَا، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَكَرِهَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَعَثْتَ بِهِ إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهِ مَا سَمِعْتُ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ: هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"؟! قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهِ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهُ، وَلَكِنْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهِ ثَمَنًا"، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو جمعہ کے دن پہن لیا کرتے یا وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو چند دن بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6081، م: 2068 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6081، م: 2068 .
حدیث نمبر: 5096 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
رقم الحديث: 4947
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ:" تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قُلْتُ: رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ! قَالَ: إِنَّكَ لَضَخْمٌ!! أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ، فَإِنْ شِئْتَ، قُلْتَ: نَامَ، وَإِنْ شِئْتَ، قُلْتَ: لَمْ يَنَمْ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ"، فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ؟!. (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ:" رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ". (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ، فَسَلَّمَ الْإِمَامُ، أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ؟ قَالَ: كَانَ" الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ، قَامَ". (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ: الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ؟ قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا میں قرأت خلف الامام کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے امام کی قرأت ہی کافی ہے، میں نے پوچھا کہ کیا فجر کی سنتوں میں میں لمبی قرأت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے فجر کی سنتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انہوں نے فرمایا تم بڑی موٹی عقل کے آدمی ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں ابھی بات کا آغاز کر رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہوتا تو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لیتے، پھر سر رکھ کر لیٹ جاتے اب تم چاہو تو یہ کہہ لو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو جاتے اور چاہو تو یہ کہہ لو کہ نہ سوتے، پھر اٹھ کر فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آ رہی ہوتی تھی، تو اس میں کتنی اور کون سی طوالت ہو گی؟ پھر میں نے پوچھا کہ ایک آدمی ہے جس نے اپنا مال فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی وصیت کی ہے، کیا اس کا مال حج میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کر لو تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہو گا، میں نے مزید پوچھا کہ اگر ایک شخص کی امام کے ساتھ ایک رکعت چھوٹ جائے، امام سلام پھیر لے، تو کیا یہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے اسے قضاء کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو مقتدی فورا کھڑا ہو جائے، پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص قرض کے بدلے اپنے مال سے زیادہ وصول کرے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے کولہوں کے پاس اس کے دھوکے کے بقدر جھنڈا لگا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5097 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، جَهْضَمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي جَهْضَمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَحْلِلْ"، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ فَلَمْ يَحِلُّوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حلال نہیں ہوئے، سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلا، تو وہ بھی حلال نہیں ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5097]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5098 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٌ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي" رَفْعِ الْيَدَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفع یدین کی حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5098]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 5099 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5099]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5100 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، إِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ، إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آ جائیں، یاد رکھو! اس کا نام نماز عشاء ہے، اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ کہہ دیتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 644، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، م: 644، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 5101 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَلَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَلَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ"، فَقَالَ ابْنُهُ: لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا! فَقَالَ: تَسْمَعُنِي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ أَنْتَ: لَا؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ بخدا! ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے، وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنا لیں گی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5101]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ : 899 ، م : 442 ، وهذا إسناد قوي .
الحكم: حديث صحيح ، خ : 899 ، م : 442 ، وهذا إسناد قوي .
حدیث نمبر: 5102 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5102]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5103 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو، تم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہو گی، ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5103]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ : 473 ، م : 729 ، وهذا إسناد جيد .
الحكم: حديث صحيح ، خ : 473 ، م : 729 ، وهذا إسناد جيد .
حدیث نمبر: 5104 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5104]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5105 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ"، قُلْتُ: وَمَتَى ذَاكَ؟ قَالَ: حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سراقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی بیع کی متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «عاهه» کے ختم ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، میں نے ان سے «عاهه» کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ثریا ستارہ کا طلوع ہونا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1535 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1535 .
حدیث نمبر: 5106 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، يَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5794 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5794 .
حدیث نمبر: 5107 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ: الْحَيَّةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1199 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1199 .