بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 83 از 102
حدیث نمبر: 6088 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنِي حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ إِلَّا بِإِذْنِهِ"، أَوْ قَالَ:" إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 1412.
الحكم: إسناده صحيح ، م: 1412.
حدیث نمبر: 6089 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادَّهَنَ بِدُهْنٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6089]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي.
حدیث نمبر: 6090 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ كَأَنَّ الْأَذَانَ فِي أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آرہی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 995، م: 749.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 995، م: 749.
حدیث نمبر: 6091 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي صَاعِنَا، وَمُدِّنَا، وَيَمَنِنَا، وَشَامِنَا"، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" مِنْ هَاهُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَاهُنَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ہمارے شہر مدینہ میں ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکتیں فرما اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطاء فرما پھر مطلع شمس کی طرف رخ کر کے فرمایا: کہ یہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6091]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6092 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلًا , وَذَكْوَانَ , وَبَنِي لِحْيَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور '' عصیہ " نے اللہ اور اس کی رسول کی نافرمانی کی، اے اللہ رعل ذکوان اور بنو لحیان پر لعنت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6092]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
حدیث نمبر: 6093 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يُعْرَفُ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے اس کی شناخت ہو گی اور سب سے بڑا دھوکہ حکمران وقت کا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6093]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
حدیث نمبر: 6094 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" , قَالَ عَبْدُ الله بْنِ أَحْمَّد: قَالَ أَبِي: سَمِعْتُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ، فِي أَوَّلِ سَنَةٍ طَلَبْتُ الْحَدِيثَ مَجْلِسًا، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْمَجْلِسَ الْآخَرَ وَقَدْ مَاتَ، وَهِيَ السَّنَةُ الَّتِي مَاتَ فِيهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6094]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 6095 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ، أَبِيهِمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ , وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 5093، م: 2225.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 5093، م: 2225.
حدیث نمبر: 6096 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ هَذَا بِالزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُهُ أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدَّهِنُ وَيَصْبُغُ بِهِ ثِيَابَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو رنگتے تھے اور زعفران کا تیل لگاتے تھے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کپڑوں کو زعفران سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: کہ میں نے دیکھا ہے کہ زعفران کا تیل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رنگے جانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ تھا اسی کا تیل لگاتے تھے اور اس سے کپڑوں کو رنگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6096]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6097 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فُلَيْحٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، وَإِنَّمَا حَبَسَنَا لِوَفْدٍ جَاءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں تین مرتبہ سو کر جاگے دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک وفد آیا ہوا تھا؟ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: کہ اس وقت روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی شخص نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6097]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6098 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا،" فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر ادی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6098]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه .
الحكم: إسناده حسن كسابقه .
حدیث نمبر: 6099 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَانِي فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ، كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنَ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ قَدْ رُجِّلَتْ، وَلِمَّتُهُ تَقْطُرُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، رَجِلَ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6099]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5902، م: 169
الحكم: حديث صحيح، خ: 5902، م: 169
حدیث نمبر: 6100 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثًا إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا بِتُّ لَيْلَةً مُنْذُ سَمِعْتُهَا إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَكْتُوبَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص پر تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کی پاس لکھی ہوئی نہ ہو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دن کے بعد سے اب تک میری کوئی ایسی رات نہیں گزری جس میں میرے پاس میری وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1627.
الحكم: حديث صحيح، م: 1627.
حدیث نمبر: 6101 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ بِاللَّيْلِ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ، يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا لِحَاجَتِهِنَّ، قَالَ: فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أُفٍّ لَكَ! أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَتَقُولُ: لَا أَفْعَلُ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجد میں آنے کی اجازت دے دیا کرو یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 6102 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" فَعَلْتَ كَذَا؟" قَالَ: لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ فَعَلَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , قَالَ حَمَّادٌ: لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ، يَعْنِي ثَابِتًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، اتنے میں سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) آگئے اور کہنے لگے کہ وہ کام تو اس نے کیا ہے لیکن " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6102]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت وبين ابن عمر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت وبين ابن عمر
حدیث نمبر: 6103 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ , فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6104 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6105 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ كلاهما , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6105]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة بكر بن عبدالله صحيح
الحكم: إسناده من جهة بكر بن عبدالله صحيح
حدیث نمبر: 6106 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ، حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دواگربدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6107 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ، فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ، وَلَا يَلْبَسُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نیگنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091