بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 58 از 102
حدیث نمبر: 5588 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُضَمِّرُ الْخَيْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھڑ دور کا مقابلہ کروایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5588]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى .
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى .
حدیث نمبر: 5589 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، قَالَتْ: إِنَّهَا حَائِضٌ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي كَفِّكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانا، وہ کہنے لگیں کہ وہ ایام سے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5589]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه ابن أبى ليلى سيء الحفظ .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه ابن أبى ليلى سيء الحفظ .
حدیث نمبر: 5590 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ"، قال: وكان ابن عمر لا يصلي في إلا ركعتين، غير أنه كان يتجهد من الليل، قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: كَانَا يُوتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں دو رکعت نماز ہی پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھ لیا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سالم رحمہ اللہ سے پوچھا کیا وہ دونوں وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5590]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي .
حدیث نمبر: 5591 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَفَرَرْنَا، فَأَرَدْنَا أَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ، ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ:" لَا، بَلْ أَنْتُمْ، أَوْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، ہم لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، پہلے ہمارا ارادہ بنا کہ بحری سفر پر چلے جاتے ہیں پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اور ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وابن أبى ليلى .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وابن أبى ليلى .
حدیث نمبر: 5592 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی بھلائی تو ملتی نہیں البتہ بخیل آدمی سے اسی طرح مال نکلوایا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1639 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1639 .
حدیث نمبر: 5593 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْكِنْدِيُّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَقُمْتُ وَتَرَكْتُ رَجُلًا عِنْدَهُ مِنْ كِنْدَةَ، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ فَزِعًا، فَقَالَ: جَاءَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ احْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے اٹھا اور جا کر سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھ گیا، اتنی دیر میں میرا کندی ساتھی آیا، اس کے چہرے کا رنگ متغیر اور پیلا زرد ہو رہا تھا اس نے آتے ہی کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن! اگر میں خانہ کعبہ کی قسم کھاؤں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، لیکن اگر تم خانۂ کعبہ کی قسم ہی کھانا چاہتے ہو تو رب کعبہ کی قسم کھاؤ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھایا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی قسم نہ کھایا کرو کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے والا شرک کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5593]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الكندي .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الكندي .
حدیث نمبر: 5594 مسند احمد
أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : وَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُعَرِّسُ بِهَا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ سے واپس آتے تو ذوالحلیفہ میں جو وادی بطحاء ہے، وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی رات یہیں پر گزارا کرتے تھے تا آنکہ فجر کی نماز پڑھ لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 484، م: 1257 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 484، م: 1257 .
حدیث نمبر: 5595 مسند احمد
مُوسَى ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ مُوسَى ، وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى فِي مُعَرَّسِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑاؤ میں ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346، وهو متصل بالذي قبله .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1535، م: 1346، وهو متصل بالذي قبله .
حدیث نمبر: 5596 مسند احمد
نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عِنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِيرِ الَّذِي دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي يُشْرِفُ عَلَى الرَّوْحَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس چھوٹی مسجد میں نماز پڑھی، جو روحاء کے اوپر بنی ہوئی مسجد کے علاوہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 485 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 485 .
حدیث نمبر: 5597 مسند احمد
نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ قَالَ: وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةِ ضخمة دون الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ، فِي مَكَانٍ بَطْحٍ سَهْلٍ، حِينَ يُفْضِي مِنَ الْأَكَمَةِ، دُونَ بَرِيدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيلَيْنِ، وَقَدْ انْكَسَرَ أَعْلَاهَا، وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم راستے کی دائیں جانب ٹیلے کی طرف جاتے ہوئے ایک کشادہ اور نرم زمین میں پہاڑ کی چونچ سے ہٹ کر ایک موٹے سے صحن کے نیچے پڑاؤ کرتے تھے، جو ایک دوسری چونچ سے دومیل کے فاصلے پر ہے، اس کا نچلا حصہ اب جھڑ چکا ہے اور وہ اپنی جڑوں پر قائم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 487 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 487 .
حدیث نمبر: 5598 مسند احمد
نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ"، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ عَلَى رَأْسِ خَمْسَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْعَرْجِ، فِي مَسْجِدٍ إِلَى هَضْبَةٍ، عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، عَلَى الْقُبُورِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَةٍ، عَلَى يَمِينِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ سَلَامَاتِ الطَّرِيقِ، بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلَامَاتِ، كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرج سے آگے ایک بڑے پہاڑ کی مسجد میں نماز پڑھی ہے عرج کی طرف جاتے ہوئے یہ مسجد پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے، اور اس مسجد کے قریب دو یا تین قبریں بھی ہیں، اور ان قبروں پر بہت سے پتھر پڑے ہوئے ہیں، یہ جگہ راستے کے دائیں ہاتھ آئی ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دوپہر کے وقت زوال آفتاب کے بعد عرج سے روانہ ہوتے تھے اور اس مسجد میں پہنچ کر ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 488 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 488 .
حدیث نمبر: 5599 مسند احمد
نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَةٍ، وَقَالَ غَيْرُ أَبِي قُرَّةَ:" سَرَحَاتٍ" عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ، فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَا، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لَاصِقٌ عَلَى هَرْشَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: لَاصِقٌ بِكَرَاعِ هَرْشَا، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةِ سَهْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرشی کے پیچھے پانی کی ایک نالی کے پاس جو راستے کی بائیں جانب آتی ہے، ایک کشادہ جگہ پر بھی رکے ہیں وہ نالی ہرشی سے ملی ہوئی ہے، بعض کراع ہرشا سے متصل بتاتے ہیں، اس کے اور راستے کے درمیان ایک تیر پھینکنے کی مسافت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 489 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 489 .
حدیث نمبر: 5600 مسند احمد
نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَنْزِلُ بِذِي طُوًى، يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حِينَ قَدِمَ إِلَى مَكَّةَ"، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ آتے ہوئے ذی طویٰ میں بھی پڑاؤ کرتے تھے، رات وہیں گزارتے اور فجر کی نماز بھی وہیں ادا فرماتے، اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے نماز ایک موٹے سے ٹیلے پر تھی، اس مسجد میں نہیں جو وہاں اب بنا دی گئی ہے، بلکہ اس سے نیچے ایک کھردرے اور موٹے ٹیلے پر تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 491، م: 1259 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 491، م: 1259 .
حدیث نمبر: 5601 مسند احمد
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيْ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي قِبَلَ الْكَعْبَةِ، فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ يَمِينًا، وَالْمَسْجِدُ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلُ مِنْهُ، عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طویل پہاڑ کے (جو خانہ کعبہ کے سامنے ہے) دونوں حصوں کا رخ کیا، وہاں بنی ہوئی مسجد کو " جو ٹیلے کی ایک جانب ہے " دائیں ہاتھ رکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے نماز اس سے ذرا نیچے کالے ٹیلے پر تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹیلے سے دس گز یا اس کے قریب جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوئے تھے اور ان دونوں حصوں کا رخ کر کے نماز پڑھتے تھے جو اس طویل پہاڑ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خانہ کعبہ کے درمیان تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 492، م: 1260 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 492، م: 1260 .
حدیث نمبر: 5602 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبَا الْمُثَنَّى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ وَاحِدَةً، غَيْرَ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ كَانَ إِذَا قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے جاتے البتہ مؤذن «قد قامت الصلوة» دو مرتبہ ہی کہتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5602]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5603 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 937، م: 882 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 937، م: 882 .
حدیث نمبر: 5604 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6166، م: 66 .
حدیث نمبر: 5605 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، نَهْشَلِ بْنِ مُجَمِّعٍ ، قَزَعَةَ ، ابْنِ عُمَرَ ، نَهْشَلٌ ، قَزَعَةَ ، أَبِي غَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ"، وقَالَ مَرَّةً: نَهْشَلٌ ، عَنْ قَزَعَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي غَالِبٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لقمان حکیم کہا کرتے تھے جب کوئی چیز اللہ کی حفاظت میں دے دی جائے تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5606 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، سُفْيَانُ ، نَهْشَلُ بْنُ مُجَمِّعٍ الضَّبِّيُّ ، قَزَعَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي نَهْشَلُ بْنُ مُجَمِّعٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ وَكَانَ مَرْضِيًّا: عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخبرنا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لقمان حکیم کہا کرتے تھے جب کوئی چیز اللہ کی حفاظت میں دے دی جائے تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5607 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5607]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك .