مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَفَرَرْنَا، فَأَرَدْنَا أَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ، ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ:" لَا، بَلْ أَنْتُمْ، أَوْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، ہم لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، پہلے ہمارا ارادہ بنا کہ بحری سفر پر چلے جاتے ہیں پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اور ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وابن أبى ليلى .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وابن أبى ليلى .