بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 75 از 102
حدیث نمبر: 5928 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانُوا يَتَوَضَّئونَ جَمِيعًا"، قُلْتُ لِمَالِكٍ: الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سب لوگ اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کر لیتے تھے، میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مرد و عورت سب؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 193.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 193.
حدیث نمبر: 5929 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، قَالَ: أَهْلُهَا نَبِيعُكِ عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
image [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5929]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2169.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2169.
حدیث نمبر: 5930 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص پر اگر کسی کا حق ہو تو اس پر دو راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5930]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2738.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2738.
حدیث نمبر: 5931 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْن عِيسَى ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْن عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو، اگر تمہیں رونا نہ آتاہو تو وہاں نہ جایا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 433.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 433.
حدیث نمبر: 5932 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر کو ماہ رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1165.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1165.
حدیث نمبر: 5933 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ، قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر! کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2104.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2104.
حدیث نمبر: 5934 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ"، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا رخ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 403، م: 526.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 403، م: 526.
حدیث نمبر: 5935 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ , أَوْ وَهْبِ بْنِ قَطَنٍ اللَّيْثِيِّ ، يُحَنَّسَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ , أَوْ وَهْبِ بْنِ قَطَنٍ اللَّيْثِيِّ , شَكَّ إِسْحَاقُ , عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ، فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ، وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهَا: اجْلِسِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام یوحنسکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی ایک باندی آگئی اور حالات کی سختی کا ذکر کر نے لگی اور ان سے مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کی اجازت طلب کرنے لگی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1377.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1377.
حدیث نمبر: 5936 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مالِكًا ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: سَأَلْتُ مالِكًا , عَنِ الرَّجُلِ يُوتِرُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْتَرَ وَهُوَ رَاكِبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوار ہو کروتر پڑھے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 999، م: 700.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 999، م: 700.
حدیث نمبر: 5937 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو دو رکعتیں اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5937]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 43، م: 749.
الحكم: حديث صحيح، خ: 43، م: 749.
حدیث نمبر: 5938 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقُلْ: وَعَلَيْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو وہ «السام عليكم» کہتا ہے، اس لئے اس کے جواب میں تم صرف «وعليك» کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6928، م: 2164.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6928، م: 2164.
حدیث نمبر: 5939 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ , أَنَّهُ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حُجَّاجًا، حَتَّى وَرَدُوا مَكَّةَ، فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ، فَاسْتَلَمُوا الْحَجَرَ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا، ثُمَّ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ يُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، وَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ، قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أَهْلُ الْمَشْرِقِ، وَثَمَّ أَهْلُ الْيَمَامَةِ، قَالَ: فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ؟ قُلْتُ: بَلْ حُجَّاجٌ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قُلْتُ: قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا، فَكُنْتُ أَفْعَلُ كَذَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَكَانَنَا حَتَّى يَأْتِيَ ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ ، إِنَّا قَدِمْنَا، فَقَصَصْنَا عَلَيْهِ قِصَّتَنَا، وَأَخْبَرْنَاهُ مَا قَالَ: إِنَّكُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ، أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ، كُلُّهُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بدر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، مکہ مکرمہ پہنچ کر حرم شریف میں داخل ہوئے حجر اسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگا کر طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اچانک بھاری وجود کا ایک آدمی چادر اور تہبند لپیٹے ہوئے نظر آیا، جو حوض کے پاس سے ہمیں آوازیں دے رہا تھا، ہم اس کے پاس چلے گئے، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا، تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: اہل مشرق، پھر اہل یمامہ، انہوں نے پوچھا کہ حج کرنے کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے؟ ہم نے عرض کیا کہ حج کی نیت سے آئے ہیں، وہ فرمانے لگے کہ تم نے اپنا حج ختم کر دیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حج کیا ہے، اور ہر مرتبہ اسی طرح کیا ہے؟ پھر ہم اپنی جگہ چلے گئے، یہاں تک کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے سارا واقعہ ذکر کیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فتویٰ بھی ذکر کیا کہ تم نے اپنا حج ختم کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں، یہ بتاؤ کہ کیا تم حج کی نیت سے نکلے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: بخدا! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حج کیا ہے اور ان سب نے اسی طرح کیا ہے جیسے تم نے کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5940 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، مَهْدِيٌّ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ! فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ!! وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3753.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3753.
حدیث نمبر: 5941 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى مَذْهَبًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَاجَهَةَ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبلہ کے رخ چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5941]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأبي المغيرة رافع بن حنين.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأبي المغيرة رافع بن حنين.
حدیث نمبر: 5942 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مذکرو مؤنث اور آزاد و غلام، چھوٹے اور بڑے ہر مسلمان پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وهو متابع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وهو متابع.
حدیث نمبر: 5943 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ" يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ مِنَ الْحَجَرِ، إِلَى الْحَجَرِ، وَيَمْشِي أَرْبَعَةً"، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل اور باقی چار چکروں میں معمول کی رفتار رکھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5943]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبد الله العمري - وإن كان ضعيفا- متابع.
الحكم: حديث صحيح، عبد الله العمري - وإن كان ضعيفا- متابع.
حدیث نمبر: 5944 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ" يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَسَائِرَ ذَلِكَ مَاشِيًا"، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر اور باقی ایام میں پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5944]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5945 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ" لَا يَسْتَلِمُ شَيْئًا مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَسْتَلِمُهُمَا" وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں کرتے تھے، صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5945]
حدیث نمبر: 5946 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، فَمَا أَحْلَلْنَا مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَحْلَلْنَا يَوْمَ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے اور یوم النحر سے پہلے ہم نے اپنے اوپر کوئی چیز حلال نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5946]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5947 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِمَالِي بِثَمْغٍ، قَالَ:" احْبِسْ أَصْلَهُ، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں ثمغ نامی جگہ میں اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5947]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري.