بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 11 از 102
حدیث نمبر: 4648 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغَادِرُ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
حدیث نمبر: 4649 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
حدیث نمبر: 4650 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، سَالِمٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَإِنَّ لَهُ قِيرَاطًا"، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟ فَقَالَ:" مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابرثواب ملے گا۔ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4650]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4651 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا" أَوْ" إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے انہوں نے جو گفتگو کی لوگوں کو اس کی روانی اور عمدگی پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5767
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5767
حدیث نمبر: 4652 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًي رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منٰی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، نیز سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1082، م: 694
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1082، م: 694
حدیث نمبر: 4653 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 432، م: 777
الحكم: إسناده صحيح، خ: 432، م: 777
حدیث نمبر: 4654 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مونچھیں خوب اچھی طرح کتروا دیا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5892، م: 259
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5892، م: 259
حدیث نمبر: 4655 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی باندیوں کو مساجد میں آنے سے مت روکو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 900، م: 443
الحكم: إسناده صحيح، خ: 900، م: 443
حدیث نمبر: 4656 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ذی طوی پر پہنچتے تو وہاں رات گزارتے صبح ہونے کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1574، م: 1259
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1574، م: 1259
حدیث نمبر: 4657 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:" وَالْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے۔ لوگوں نے عرض کیا، قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 1301، ذكره البخاري تعليقا مجزوما به، بإثر الحديث 1727 من طريق عبيد الله به
الحكم: إسناده صحيح، م : 1301، ذكره البخاري تعليقا مجزوما به، بإثر الحديث 1727 من طريق عبيد الله به
حدیث نمبر: 4658 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، نے ارشاد فرمایا: ہر شخص کے سامنے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2868، م: 3240
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2868، م: 3240
حدیث نمبر: 4659 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَيَجْلِسَ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے البتہ تم پھیل کر کشادگی پیدا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6270، م: 2177
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6270، م: 2177
حدیث نمبر: 4660 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں، البتہ جمعہ اور مغرب کے بعد اپنے گھر میں نماز پڑھتے تھے اور میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن وہ ایسا وقت ہوتا ہے تھا جس میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں نہیں جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1172، م: 729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1172، م: 729
حدیث نمبر: 4661 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ، ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہیں غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی، پھر غزوہ خندق کے دن دوبارہ پیش ہوئے تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4661]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4097، م: 1868
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4097، م: 1868
حدیث نمبر: 4662 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَال: نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وضو کر لے اور سو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4662]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 287، م: 306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 287، م: 306
حدیث نمبر: 4663 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا کہ پھلوں یا کھیتی کی جو پیداوار ہو گی اس کا نصف تم ہمیں دو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2329، م: 1551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2329، م: 1551
حدیث نمبر: 4664 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَسَارَّ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
حدیث نمبر: 4665 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَقَلَهَا صَاحِبُهَا، حَبَسَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا، ذَهَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4665]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 789
الحكم: إسناده صحيح، م: 789
حدیث نمبر: 4666 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَ بِرَجْمِهِمَا، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَقِيهَا بِنَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی مرد و عورت نے بدکاری کی لوگ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے اس پر جھکا پڑتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
حدیث نمبر: 4667 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ وَهُوَ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، لِيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہئے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1646
الحكم: إسناده صحيح، م: 1646