بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 73 از 102
حدیث نمبر: 5888 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا، لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو، حالانکہ اللہ کی قسم! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6627، م: 2466.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6627، م: 2466.
حدیث نمبر: 5889 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ، وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ، لَكَانَ خَيْرًا لَمَيِّتِهِمْ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ أَقُولُهُ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ، فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْفُؤَادَ مُصَابٌ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے، کہ ان کی ایک جانب سلمہ بن ازرق بھی بیٹھے تھے، اتنے میں وہاں سے ایک جنازہ گزرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر یہ لوگ رونا دھوناچھوڑ دیں تو ان ہی کے مردے کے حق میں بہتر ہو، سلمہ بن ازرق کہنے لگے: ابوعبدالرحمن! یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ہاں! یہ میں ہی کہہ رہا ہوں، کیونکہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی مر گیا، عورتیں اکٹھی ہو کر اس پر رونے لگیں، مروان کہنے لگا کہ عبدالملک! جاؤ، ان عورتوں کو رونے سے منع کرو، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ رہنے دو، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ میں سے بھی کسی کے انتقال پر خواتین نے جمع ہو کر رونا شروع کر دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر انہیں ڈانٹنا اور منع کرنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! رہنے دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا یہ روایت آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! سلمہ نے پوچھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5889]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال سلمة بن الأزرق.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال سلمة بن الأزرق.
حدیث نمبر: 5890 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے، تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہو جاتا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ (عذاب میں تو سب نیک و بد شریک ہوں گے، جزا سزا اعمال کے مطابق ہو گی)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5890]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5891 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، أَبِي الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيِّ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ازار کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے قمیض (شلوار) کے بارے میں بھی وہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5891]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5892 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، وَبَكْر بِنْ عَبْد الله ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَبَكْر بِنْ عَبْد الله , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، أَيْ بِالْمُحَصَّبِ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً، ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں (وادی بطحاء میں) پڑھیں، رات وہیں گزاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،.خ: 1768.
الحكم: إسناده صحيح،.خ: 1768.
حدیث نمبر: 5893 مسند احمد
إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ ، مَالِكٌ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس یمانی رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کتنے ہی صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے کہ ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے، اور میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے حتٰی کہ بیوقوفی اور عقلمندی بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2655.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2655.
حدیث نمبر: 5894 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" أَمَّا الْأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
image [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 166، م: 1182.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 166، م: 1182.
حدیث نمبر: 5895 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ نْهَزَمْنَا فِي أَوَّلِ عَادِيَةٍ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ لَيْلًا، فَاخْتَفَيْنَا، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَذَرْنَا إِلَيْهِ؟ فَخَرَجْنَا، فَلَمَّا لَقِينَاهُ قُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ، وَأَنَا فِئَتُكُمْ"، قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ:" وَأَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کسی سریہ میں روانہ فرمایا، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو ہم پہلے ہی مرحلے پر بھاگ اٹھے اور رات کے وقت ہی کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئے اور روپوش ہو گئے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چل کر ان سے اپنا عذر بیان کرتے ہیں، چنانچہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو، میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔ میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5895]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، ويزيد بن أبي زيد مولى الهاشميين.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، ويزيد بن أبي زيد مولى الهاشميين.
حدیث نمبر: 5896 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَبَرُّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ إِذْ يُوَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2552.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2552.
حدیث نمبر: 5897 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ، مَاتَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ بَيْعَةٍ، كَانَتْ مِيتَتُهُ مِيتَةَ ضَلَالَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور حال پر مرے تو وہ اس طرح مرے گا کہ قیامت کے دن اس کی کسی حجت کا اعتبار نہ ہو گا اور جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اپنا ہاتھ بیعت سے چھڑا لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5897]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1851، وهذا إسناد ضعيف، فيه عبدالله بن لهعة، وهو سيئ الحفظ، لكنه متابع.
الحكم: حديث صحيح، م: 1851، وهذا إسناد ضعيف، فيه عبدالله بن لهعة، وهو سيئ الحفظ، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 5898 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ ذِمَّتَهُ، فَإِنَّهُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَهُ، طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يُكِبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آ جاتا ہے اس لئے تم اللہ کی ذمہ داری کو مت توڑو، کیونکہ جو اللہ کی ذمہ داری کو توڑے گا، اللہ اسے تلاش کر کے اوندھے جہنم میں داخل کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5898]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5899 مسند احمد
مُوسَى يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ يُعْفَى عَنِ الْمَمْلُوكِ؟ قَالَ: فَصَمَتَ عَنْهُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَصَمَتَ عَنْهُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ:" يُعْفَى عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ!! کسی غلام سے کتنی مرتبہ درگزر کی جائے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے تیسری مرتبہ پوچھنے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے روزانہ ستر مرتبہ درگزر کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5899]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5900 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا بِكَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ناپ کر یا وزن کر کے غلہ خریدے، اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5900]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5901 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى رَعِيَّتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا، وَمَسْئُولَةٌ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی، چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہو گی، عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5901]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ:7138، م: 1829، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ:7138، م: 1829، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع.
حدیث نمبر: 5902 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ قَالَ أُمَّتِي وَمَثَلُ الْيَهُودِ , وَالنَّصَارَى، كَمَثَلِ رَجُلٍ، قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ قَالَتْ الْيَهُودُ: نَحْنُ، فَفَعَلُوا، فَقَالَ: فَمَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ قَالَتْ النَّصَارَى: نَحْنُ، فَعَمِلُوا، وَأَنْتُمْ الْمُسْلِمُونَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ أَجْرًا! فَقَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص نے چند مزدوروں کو کام پر لگایا اور کہا کہ ایک قیراط کے عوض نماز فجر سے لے کر نصف النہار تک کون کام کرے گا؟ اس پر یہودیوں نے فجر کی نماز سے لے کر نصف النہار تک کام کیا پھر اس نے کہا کہ ایک اور قیراط کے عوض نصف النہار سے لے کر نماز عصر تک کون کام کرے گا؟ اس پر عیسائیوں نے کام کیا پھر اس نے کہا کہ نماز عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض کون کام کرے گا؟ یاد رکھو وہ تم ہو جنہوں اس عرصے میں کام کیا لیکن اس پر یہود و نصاری غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہماری محنت اتنی زیادہ اور اجرت اتنی کم؟ اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارا حق ادا کر نے میں ذرا بھی کوتاہی یا کمی کی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، اللہ نے فرمایا: پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں عطاء کر دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2269.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2269.
حدیث نمبر: 5903 مسند احمد
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
سَمِعْت مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ أَكْتُبْهُ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ كَذَا، وَالنَّصَارَى كَذَا" , نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قِصَّةِ الْيَهُودِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5021.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5021.
حدیث نمبر: 5904 مسند احمد
وحَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ أَيْضًا، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2269.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2269.
حدیث نمبر: 5905 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ:" هَاهُنَا الْفِتْنَةُ، هَاهُنَا الْفِتْنَةُ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ اور دو مرتبہ فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5905]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف،مؤمل سيئ الحفظ، لكن توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف،مؤمل سيئ الحفظ، لكن توبع.
حدیث نمبر: 5906 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبِسْ الْخُفَّيْنِ، يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5906]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - تابعه أبو أحمد الزبيري.
الحكم: حديث صحيح، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - تابعه أبو أحمد الزبيري.
حدیث نمبر: 5907 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ الْبَيْدَاءُ يَسُبُّهَا، أَو كَادَ يَسُبَّهَا، وَيَقُولُ: إِنَّمَا" أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5907]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لضعف مؤمل.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لضعف مؤمل.