بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 96 از 102
حدیث نمبر: 6348 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا، وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتَيْهِ، بَاسِطَهَا عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو بلند کر لیتے اور دعاء فرماتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر بچھا کر رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 580
الحكم: إسناده صحيح، م: 580
حدیث نمبر: 6349 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ , قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ" ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربناولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزادے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6350 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا"، بَعْدَمَا يَقُولُ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4069
حدیث نمبر: 6351 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ، فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً، وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4133، م: 839
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4133، م: 839
حدیث نمبر: 6352 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ صَلَّاهَا أَرْبَعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کر نے لگے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 694
الحكم: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 6353 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَجْفَى النَّاسِ فَنَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن امیہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکر ہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکر ہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے؟) انہوں نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا: ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ یہ کر یں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6353]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6354 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ فِي السَّيْرِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 6355 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 6356 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ عُمَرَ ، قَدْ اسْتَيْقَنَ نَافِعٌ الْقَائِلَ، قَدْ اسْتَيْقَنْتُ أَنَّهُ أَحَدُهُمَا، وَمَا أُرَاهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَشْتَمِلْ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ، لِيَتَوَشَّحْ، مَنْ كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ وَلْيَرْتَدِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِيُصَلِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص یہودیوں کی طرح نماز میں اشتمال نہ کرے بلکہ توشیح کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک تہبند اور دوسرے کو چادر بنا لے اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں بلکہ ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے تہبند بنا کر نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، لكن روي مرفوعا وموقوفا، و رجح الطحاوي و قفه
الحكم: إسناده صحيح، لكن روي مرفوعا وموقوفا، و رجح الطحاوي و قفه
حدیث نمبر: 6357 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، المعنى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تھے تو اس وقت نماز کے لئے اذان نہ ہوتی تھی بلکہ لوگ اندازے سے ایک وقت میں جمع ہوجاتے تھے ایک دن انہوں نے اس موضوع پر گفتگو کی اور بعض لوگ کہنے لگے کہ دوسروں کو اطلاع دینے کے لئے ناقوس بنا لیا جائے جیسے نصاریٰ کے یہاں ہوتا ہے بعض کہنے لگے کہ یہودیوں کے بگل کی طرح ایک بگل بنا لینا چاہئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ کسی آدمی کو بھیج کر نماز کی منادی کروادیا کر یں؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال اٹھو اور نماز کی منادی کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 604، م: 377
الحكم: إسناده صحيح، خ: 604، م: 377
حدیث نمبر: 6358 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ"، قُلْتُ لِنَافِعٍ: حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا میں نے نافع سے پوچھا سورج غروب ہونے تک؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 626
الحكم: إسناده صحيح، م: 626
حدیث نمبر: 6359 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ أَحْيَانًا يَبْعَثُهُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَيُقَدَّمُ لَهُ عَشَاؤُهُ، وَقَدْ نُودِيَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ تُقَامُ وَهُوَ يَسْمَعُ، فَلَا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ، وَلَا يَعْجَلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، قَالَ: وَقَدْ كَانَ يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات روزے سے ہوتے وہ انہیں افطاری کا کھانا لانے کے لئے بھیجتے ان کے سامنے کھانا اس وقت پیش کیا جاتا جب مغرب کی اذان ہوچکی ہوتی نماز کھڑی ہوجاتی اور ان کے کانوں میں آواز بھی جاری ہوتی لیکن وہ اپنا کھانا ترک نہ کرتے اور فراغت سے قبل جلدی نہ کرتے پھر باہر آ کر نماز پڑھ لیتے اور فرماتے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہے جب رات کا کھانا تمہارے سامنے پیش کر دیا جائے تو اس سے اعراض کر کے جلدی نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 559
الحكم: إسناده صحيح، م: 559
حدیث نمبر: 6360 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَهُوَ غُلَامٌ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ , ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَأْتِيكَ؟" قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُلِطَ لَكَ الْأَمْرُ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا" وَخَبَأَ لَهُ: يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ!! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُنْ هُوَ، فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَا يَكُنْ، هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چند صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کے ساتھ جن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن صیاد کے پاس سے گزرے وہ اس وقت بنو مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خود بھی وہ بچہ ہی تھا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ کیا آپ میرے متعلق اللہ کا پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کیا آتا ہے؟ اس نے کہا میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر فرمایا: میں نے اپنے دل میں تیرے لئے ایک چیز چھپائی ہے بتا وہ کیا ہے؟ (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی یوم تاتی السماء بدخان مبین) اپنے ذہن میں چھپائی تھی) ابن صیاد کہنے لگاوہ دخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دور ہو تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہی دجال ہے تو تمہیں اس پر قدرت نہیں دی جائے گی اور اگر یہ وہی دجال نہیں ہے تو اسے قتل کر نے میں کیا فائدہ؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1354، م: 2931
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1354، م: 2931
حدیث نمبر: 6361 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3055، م: 2930
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3055، م: 2930
حدیث نمبر: 6362 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ، غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3055، م: 2930
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3055، م: 2930
حدیث نمبر: 6363 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَوْ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ، طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ، أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا، قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، قَالَ: فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ: أَيْ صَافِ , وَهُوَ اسْمُهُ، هَذَا مُحَمَّدٌ , فَثَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر کھجوروں کے اس باغ میں گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس باغ میں داخل ہوئے تو ٹہنیوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے چلنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ چپکے سے جا کر ابن صیاد کی کچھ باتیں قبل اس کے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھے سن لیں ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا کچھ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ لیا کہ وہ ٹہنیوں اور شاخوں کی آڑ لے کر چلے آ رہے ہیں تو فوراً بول پڑی صافی (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ رہے ہیں یہ سنتے ہی وہ کود کر بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت اسے چھوڑ دیتی (اور میرے آنے کی خبر نہ دیتی) تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کر دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3056، م: 2931
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3056، م: 2931
حدیث نمبر: 6364 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2638، م: 2931
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2638، م: 2931
حدیث نمبر: 6365 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثناء کر نے کے بعد دجال کا تذکر ہ کیا اور فرمایا: کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایاحتیٰ کے سیدنا نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے میں تمہارے سامنے اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہو سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3057، م: 2931
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3057، م: 2931
حدیث نمبر: 6366 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ، فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي، فَاقْتُلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہودی تم سے قتال کر یں گے اور تم ان پر غالب آجاؤ گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے نیچے چھپا ہو گا تو وہ پتھر مسلمانوں سے پکارپکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3593، م: 2921
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3593، م: 2921
حدیث نمبر: 6367 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ , وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ، لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ، وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ: بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنونضیر اور بنوقریظہ کے یہودیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنگ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور نبوقریظہ پر احسان فرماتے ہوئے انہیں وہیں رہنے دیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد بنو قریظہ نے دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنگ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کر دیا اور ان کی عورتوں بچوں اور مال و دولت کو چند ایک کے استثناء کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا یہ چند ایک لوگ وہ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا جن میں بنوقینقاع جو سیدنا عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنوحارثہ کے یہودی بلکہ مدینہ منورہ میں رہنے والا ہر یہودی شامل تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4028، م: 1766
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4028، م: 1766