بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 93 از 102
حدیث نمبر: 6288 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَلْيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1646 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1646 .
حدیث نمبر: 6289 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت محرم کے بغیر تین کا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338 .
حدیث نمبر: 6290 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الْعُمَرِيّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : مَا أَنْكَرْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، حَدِيثَ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ سَفَرًا ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" , قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْعُمَرِيّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت محرم کے بغیر تین کا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338، وأما إسناد عبدالرزاق الذى ساقه المصنف، فهو ضعيف لضعف العمري .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338، وأما إسناد عبدالرزاق الذى ساقه المصنف، فهو ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 6291 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6291]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: بعد رقم: 1936 .
الحكم: إسناده صحيح، م: بعد رقم: 1936 .
حدیث نمبر: 6292 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ , أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ تَعَالَى، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل جاہلیت دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمان بھی ماہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6292]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1126 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1126 .
حدیث نمبر: 6293 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی چوری کر نے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1686 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1686 .
حدیث نمبر: 6294 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْقَزَعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا: ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2120 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2120 .
حدیث نمبر: 6295 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، ابْنَ عُمَرَ ، عَائِشَةُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: سَأَلَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : ابْنَ عُمَرَ , فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فِي رَجَبٍ , فَسَمِعَتْنَا عَائِشَةُ ، فَسَأَلَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ؟ فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ،" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا قَدْ شَهِدَهَا، وَمَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً قَطُّ إِلَّا فِي ذِي الْحِجَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا رجب کے مہینے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا: کہ ابو عبدالرحمن پر اللہ رحم فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا یہ اس موقع پر موجود رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذی الحجہ کے علاوہ کسی مہینے میں بھی عمرہ نہیں فرمایا: ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6296 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ"، فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا لِحَوَائِجِهِنَّ!! فَقَالَ: فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ، أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَتَقُولُ: لَا نَدَعُهُنَّ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو یہ سن کر سالم یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ واللہ ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنالیں گی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: کہ میں تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
حدیث نمبر: 6297 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَسَمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا: تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762 .
حدیث نمبر: 6298 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً، لَا تَدْرِي أَيَّهُمَا تَتْبَعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافق کی مثال اس بکر ی کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ اس ریوڑ میں شامل ہو یا اس ریوڑ میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6298]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2784 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2784 .
حدیث نمبر: 6299 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَرَآهُ النَّاسُ، فَنَهَاهُمْ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ! فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایساہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایسا کر نے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1102 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1102 .
حدیث نمبر: 6300 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بناؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 751 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 751 .
حدیث نمبر: 6301 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اب آپ جہاد میں شرکت کیوں نہیں کرتے انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 8، م: 16
الحكم: إسناده صحيح، خ: 8، م: 16
حدیث نمبر: 6302 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ يَؤُمُّ الْعِرَاقَ:" هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2905
الحكم: إسناده صحيح، م: 2905
حدیث نمبر: 6303 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمًا ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 865، م: 442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 865، م: 442
حدیث نمبر: 6304 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 6305 مسند احمد
يَعْلَى ، إِسْمَاعِيلُ ، سَالِمِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَالِمِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِثْلُ قِيرَاطِنَا هَذَا؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ، أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا تو فرمایا: کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6305]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6306 مسند احمد
يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ حَصَاةٌ، يَحُكُّ بِهَا نُخَامَةً رَآهَا فِي الْقِبْلَةِ، وَيَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَهُ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى، فَإِنَّمَا قَامَ يُنَاجِي رَبَّهُ تَعَالَى"، قَالَ مُحَمَّدٌ: وِجَاهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ کنکر یاں ہیں اور وہ اس سے قبلہ کے جانب لگا ہوا بلغم صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6306]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 6307 مسند احمد
يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ"، وَقَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ، يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا: ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح بیع کرتے تھے کہ ایک اونٹنی دے کر حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کو (پیدائش سے پہلے ہی) خرید لیتے (اور کہہ دیتے کہ جب اس کا بچہ پیدا ہو گا وہ میں لوں گا) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6307]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2256، م: 1514، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2256، م: 1514، وهذا إسناد حسن