يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ حَصَاةٌ، يَحُكُّ بِهَا نُخَامَةً رَآهَا فِي الْقِبْلَةِ، وَيَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَهُ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى، فَإِنَّمَا قَامَ يُنَاجِي رَبَّهُ تَعَالَى"، قَالَ مُحَمَّدٌ: وِجَاهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ کنکر یاں ہیں اور وہ اس سے قبلہ کے جانب لگا ہوا بلغم صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6306]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق