بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 6 از 102
حدیث نمبر: 4548 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمًا ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سَالِمًا ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ"، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہئے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا نقل کرتے ہوئے بھی ایسی قسم نہیں کھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1646
الحكم: إسناده صحيح، م: 1646
حدیث نمبر: 4549 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1574
الحكم: إسناده صحيح، م: 1574
حدیث نمبر: 4550 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي الْحَقِّ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتاہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7529، م: 815
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7529، م: 815
حدیث نمبر: 4551 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4551]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 617، م: 1092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 617، م: 1092
حدیث نمبر: 4552 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1543
حدیث نمبر: 4553 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4553]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 894، م: 844
الحكم: إسناده صحيح، خ: 894، م: 844
حدیث نمبر: 4554 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّه سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ:" الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے سنا (کہ اتنی بھی حیاء نہ کیا کرو)، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6118، م: 59
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6118، م: 59
حدیث نمبر: 4555 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ، وَقَالَ مَرَّةً:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ: وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے گو کہ میں نے خود نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1527، م: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1527، م: 1182
حدیث نمبر: 4556 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا يَمْنَعْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے اجازت دینے سے انکار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4556]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5238، م: 442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5238، م: 442
حدیث نمبر: 4557 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَرَآهُ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سانپ کو مار دیا کرو خاص طور پر دو دھاری اور دم کٹے سانپوں کو کیونکہ یہ دونوں انسان کی بینائی زائل ہونے اور حمل ساقط ہو جانے کا سبب بنتے ہیں۔، اس لئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار دیتے تھے ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سانپ کو دھتکارتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ گھروں میں آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4557]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 3297، م: 2233
الحكم: إسناده صحيح، خ : 3297، م: 2233
حدیث نمبر: 4558 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) قَرَأَ عَلَيَّ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5574
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5574
حدیث نمبر: 4559 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َسُئِلَ كَيْفَ يُصَلَّى بِاللَّيْلِ؟ قَالَ:" لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ، فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ!! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ فرمایا: تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1137، م: 749
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1137، م: 749
حدیث نمبر: 4560 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حق ولاء کو بیچنے یا ہبہ کر نے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4560]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6756، م: 1506
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6756، م: 1506
حدیث نمبر: 4561 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2980
الحكم: إسناده صحيح، م: 2980
حدیث نمبر: 4562 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1943
الحكم: إسناده صحيح، م: 1943
حدیث نمبر: 4563 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ"، وَقَالَ مَرَّةً:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ الْيَهُودُ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ، فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرتا ہے تو وہ «السام عليك» کہتا ہے، اس لئے اس کے جواب میں تم صرف «وعليك» کہہ دیا کرو۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جب یہودی تمہیں سلام کریں تو تم وعلیکم کہہ دیا کرو کیونکہ وہ «السام عليكم» کہتے ہیں (تم پر موت طاری ہو)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6928، م: 2164
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6928، م: 2164
حدیث نمبر: 4564 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ"، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَنَاجَى الرَّجُلَانِ دُونَ الثَّالِثِ، إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
حدیث نمبر: 4565 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ"، وَقَالَ مَرَّةً: فَيُلَقِّنُ أَحَدَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات سننے اور اطاعت کر نے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867
حدیث نمبر: 4566 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب کہ وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2107، م: 1531
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2107، م: 1531
حدیث نمبر: 4567 مسند احمد
سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ابْنَ ابْنِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَاقِدٍ: يَا بُنَيَّ، سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085