بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 34 از 102
حدیث نمبر: 5108 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ: وقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ اسلم، اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2518 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2518 .
حدیث نمبر: 5109 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ:" هَا، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3279 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3279 .
حدیث نمبر: 5110 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَارَ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت تشریف لائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5110]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، ابو الزبير مدلس ، و قد عنعن .
الحكم: إسناده ضعيف ، ابو الزبير مدلس ، و قد عنعن .
حدیث نمبر: 5111 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ"، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ"، فَقِيلَ لَهُ: الْعِرَاقُ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل نجد کے لئے قرن اور اہل شام کے لئے جحفہ کو میقات قرار دیا ہے۔ یہ تین جگہیں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر خود یاد کی ہیں اور یہ بات مجھ سے بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن کے لئے یلملم ہے، کسی نے عراق کے متعلق پوچھا، تو فرمایا: اس وقت عراق نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7344 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7344 .
حدیث نمبر: 5112 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مَرْثَدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ الْهُنَائِيَّ ، أَبُو عَمْرٍو النَّدَبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْثَدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ الْهُنَائِيَّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو النَّدَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جماعت کی نماز سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5112]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، مرثد بن عام الهنائي روى عنه غير واحد ، وذكره ابن حبان في «الثقات» : 7/ 500 ، لكن قال الإمام أحمد : لا أعرفه ، و أبو عمرو الندبي ضعيف يعتبر به .
الحكم: إسناده ضعيف ، مرثد بن عام الهنائي روى عنه غير واحد ، وذكره ابن حبان في «الثقات» : 7/ 500 ، لكن قال الإمام أحمد : لا أعرفه ، و أبو عمرو الندبي ضعيف يعتبر به .
حدیث نمبر: 5113 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ، فَقَالَ:" بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ، وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ، فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم راستے میں جا رہے تھے، تو غلہ پر نظر پڑی جسے اس کے مالک نے بڑا سجا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے ردی غلہ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے علیحدہ بیچو، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5113]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر .
الحكم: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر .
حدیث نمبر: 5114 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5114]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة بعض ألفاظه ، ابن ثوبان حسن الحديث إذا لم يتفرد بما ينكر ، فقد أشار الإمام أحمد إلى أن له أحاديث منكرة ، وهذا منها .
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة بعض ألفاظه ، ابن ثوبان حسن الحديث إذا لم يتفرد بما ينكر ، فقد أشار الإمام أحمد إلى أن له أحاديث منكرة ، وهذا منها .
حدیث نمبر: 5115 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کر نے والوں کے لئے بھر پور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5115]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه .
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه .
حدیث نمبر: 5116 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5116]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ : 397 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث .
الحكم: حديث صحيح ، خ : 397 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث .
حدیث نمبر: 5117 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ:" حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ، وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا، میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5117]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده .
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده .
حدیث نمبر: 5118 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص پر اگر کسی کا کوئی حق ہو تو دو راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1627 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1627 .
حدیث نمبر: 5119 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہ ٹھکانہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6515 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6515 .
حدیث نمبر: 5120 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ، فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، سَارَ حَتَّى أَمْسَى، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ"، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَسِيرُوا، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کوئی ناگہانی خبر ملی تو وہ روانہ ہو گئے اور اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت طے کی، وہ شام ہونے تک چلتے رہے، میں نے ان سے نماز کا تذکرہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور چلتے رہے، حتیٰ کہ اندھیرا چھانے لگا، پھر سالم یا کسی اور آدمی نے ان سے کہا کہ شام بہت ہو گئی ہے، نماز پڑھ لیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی، تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے اور میں بھی ان دونوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے چلتے رہو، چنانچہ وہ چلتے رہے حتیٰ کہ شفق بھی غائب ہو گئی، پھر انہوں نے اتر کر دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1805 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1805 .
حدیث نمبر: 5121 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا، فَتَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یونس بن جبیر رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا، جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، میں نے کہا، جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1471 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5122 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى"، وَكَانَ شُعْبَةُ يَفْرَقُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5122]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله : «والنهار» .
الحكم: صحيح دون قوله : «والنهار» .
حدیث نمبر: 5123 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَامِرٍ، فَجَعَلُوا يَثْنُونَ عَلَيْهِ، وَابْنُ عُمَرَ سَاكِتٌ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ابن عامر کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جو پہلے خاموش بیٹھے تھے نے فرمایا کہ میں تمہیں ان سے بڑھ کر دھوکہ نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5123]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، م : 224 .
الحكم: إسناده حسن ، م : 224 .
حدیث نمبر: 5124 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْقِتَالِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ:" إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى ذُرِّيَّتَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ"، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن عون رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو مصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا، وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کر دیا، بقیہ افراد کو قید کر لیا اور اسی دن سیدہ جویرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ان کے حصے میں آئیں، مجھ سے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2541 ، م : 1730 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2541 ، م : 1730 .
حدیث نمبر: 5125 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَتَادَةَ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرِيرِ:" إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم کے متعلق فرمایا: یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5125]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة بكر المزني صحيح ، خ : 5841 ، م : 2068 ، و أما بشر بن المحتفر فلا يعرف إلا في هذا الحديث مقروناً ببكر بن عبد الله ، و هو في عداد المجهولين ، و لايضر وجوده هنا في الإسناد ، لأنه مقرون ببكر وهو ثقة
الحكم: إسناده من جهة بكر المزني صحيح ، خ : 5841 ، م : 2068 ، و أما بشر بن المحتفر فلا يعرف إلا في هذا الحديث مقروناً ببكر بن عبد الله ، و هو في عداد المجهولين ، و لايضر وجوده هنا في الإسناد ، لأنه مقرون ببكر
حدیث نمبر: 5126 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَتَادَةَ ، أَبَا مِجْلَزٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نمازوں میں سب سے آخری رکعت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 752 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 752 .
حدیث نمبر: 5127 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَتَادَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كَانَتْ" صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ نمازیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، وہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5127]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م : 1180 ، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح ، م : 1180 ، وهذا إسناد حسن .