إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ، فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، سَارَ حَتَّى أَمْسَى، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ"، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَسِيرُوا، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کوئی ناگہانی خبر ملی تو وہ روانہ ہو گئے اور اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت طے کی، وہ شام ہونے تک چلتے رہے، میں نے ان سے نماز کا تذکرہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور چلتے رہے، حتیٰ کہ اندھیرا چھانے لگا، پھر سالم یا کسی اور آدمی نے ان سے کہا کہ شام بہت ہو گئی ہے، نماز پڑھ لیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی، تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے اور میں بھی ان دونوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے چلتے رہو، چنانچہ وہ چلتے رہے حتیٰ کہ شفق بھی غائب ہو گئی، پھر انہوں نے اتر کر دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1805 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1805 .