بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5114
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5114
حدیث نمبر: 5114 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5114]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة بعض ألفاظه ، ابن ثوبان حسن الحديث إذا لم يتفرد بما ينكر ، فقد أشار الإمام أحمد إلى أن له أحاديث منكرة ، وهذا منها .
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة بعض ألفاظه ، ابن ثوبان حسن الحديث إذا لم يتفرد بما ينكر ، فقد أشار الإمام أحمد إلى أن له أحاديث منكرة ، وهذا منها .
← پچھلی حدیث (5113) باب پر واپس اگلی حدیث (5115) →