بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 79 از 102
حدیث نمبر: 6008 مسند احمد
هَاشِمٌ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 751.
الحكم: إسناده صحيح ، م: 751.
حدیث نمبر: 6009 مسند احمد
هَاشِمٌ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2665.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2665.
حدیث نمبر: 6010 مسند احمد
هَاشِمٌ ، جِسْرٌ ، سَلِيطٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا جِسْرٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيطٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحْسَسْتُمْ بِالْحُمَّى، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں بخار محسوس ہو تو اسے ٹھنڈے پانی سے بجھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6010]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف جسر، وسليط لم يوثقه غير ابن حبان.
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف جسر، وسليط لم يوثقه غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 6011 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ، تُحَدِّثُنِي بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ"، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:" هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ"، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى عَلَيْهَا، فَقَالَ:" هَذِهِ لِعُثْمَانَ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَذِهِ الْآنَ مَعَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مصر سے ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابن عمر! اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے جواب دیں گے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختلف سوال پوچھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اب آؤ میں تمہیں ان تمام چیزوں کی حقیقت سے آگاہ کروں جن کے متعلق تم نے مجھ سے پوچھا ہے، جہاں تک غزوہ احد کے موقع پر بھاگنے کی بات ہے تو میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ نے ان سے درگزر کی اور انہیں معاف فرما دیا ہے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی (سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ جو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اس وقت بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تھا کہ (تم یہیں رہ کر اس کی تیمارداری کرو) تمہیں غزوہ بدر کے شرکاء کے برابر اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت کا حصہ بھی، رہی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اگر بطن مکہ میں عثمان سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی کو بھیجتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود سیدنا عثمان کو مکہ مکرمہ میں بھیجا تھا اور بیعت رضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: تھا یہ عثمان کا ہاتھ ہے اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان باتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلاجا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 3698.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 3698.
حدیث نمبر: 6012 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقیر، مزفت اور دباء سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6013 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوْ قَالَ لَهُ غَيْرِي: مَا لِي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ؟ فَقَالَ:" إِنْ أَمْشِي , فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى"، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کثیربن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں؟ فرمایا: اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6013]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لكثير بن جمهان ، فهو مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف لكثير بن جمهان ، فهو مجهول.
حدیث نمبر: 6014 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ لَمْ يَسِرْ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 2998.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 2998.
حدیث نمبر: 6015 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَاصِمٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 4513، م: 16.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 4513، م: 16.
حدیث نمبر: 6016 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدَرِ، فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَةٌ، وَرِحَالُهُمْ الْأُدُمُ، وَخُطُمُ إِبِلِهِمْ الْجُرُرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتْ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذْ قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعیدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حج سے واپسی کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ آ رہا تھا، ہمارا گزر ایک یمانی قافلہ پر ہوا ان کے خیمے یا کجاوے چمڑے کے تھے اور ان کے اونٹوں کی لگا میں پھندے کی طرح محسوس ہوتی تھیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس قافلہ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ جو شخص اس سال حج کے لئے آنے والے قافلوں میں سے کسی ایسے قافلے کو دیکھنا چاہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو، وہ اس قافلے کو دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6016]
حکم دارالسلام
هذا الأثر إسناده صحيح.
الحكم: هذا الأثر إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6017 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَقَالَ هَاشم: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ بیت اللہ کے کسی حصے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 1609، م: 1267.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 1609، م: 1267.
حدیث نمبر: 6018 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ أَبِي نَتَلَقَّى الْحَاجَّ، فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تاکہ حجاج کر ام سے ملاقات کر یں اور انہیں گناہوں کی گندگی میں ملوث ہونے سے پہلے سلام کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6018]
حکم دارالسلام
وهذا الأثر إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبد الملك.
الحكم: وهذا الأثر إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبد الملك.
حدیث نمبر: 6019 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، لَيْثٌ ، وَهَاشِمٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، وَهَاشِمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَبِلَالٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا، فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ، قَالَ هَاشِمٌ: صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت اللہ شریف میں سیدنا اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیاجب دروازہ کھلا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! دائیں ہاتھ کے دو ستونوں کے درمیان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 1598، م: 1329.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 1598، م: 1329.
حدیث نمبر: 6020 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، وَيُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بر سر منبرارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 844.
الحكم: إسناده صحيح ، م: 844.
حدیث نمبر: 6021 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بال جمائے ہوئے یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کلمات پر کچھ اضافہ نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 5915، م: 1184.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 5915، م: 1184.
حدیث نمبر: 6022 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، لَا مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ، لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لاکر جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی پکار کر کہے گا اے جنت! تم ہمیشہ جنت میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی اور اے جہنم! تم ہمیشہ جہنم میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل جنت کی خوشی اور مسرت دو چند ہو جائے گی اور اہل جہنم کے غموں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 6548، م: 2850.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 6548، م: 2850.
حدیث نمبر: 6023 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ" فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 6548، م: 2850.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 6548، م: 2850.
حدیث نمبر: 6024 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، وَلَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تین آدمی جمع ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کیا کر یں اور کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 8628، م: 2183.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 8628، م: 2183.
حدیث نمبر: 6025 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، وَقَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سانپ کو مار دیا کرو خاص طور پر دو دھاری اور دم کٹے سانپوں کو، کیونکہ یہ دونوں انسان کی بینائی زائل ہونے اور حمل ساقط ہوجانے کا سبب بنتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 3297، م: 2233.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 3297، م: 2233.
حدیث نمبر: 6026 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الْإِمَامُ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"، قَالَ: سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہو گی عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی میں نے یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہیں اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہ بھی فرمایا: تھا مرد اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 2409، م: 1829.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 2409، م: 1829.
حدیث نمبر: 6027 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: مَنْ ضَفَرَ فَلْيَحْلِقْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کی مینڈھیاں ہوں اسے حج کا احرام ختم کرنے کے لئے حلق کر انا چاہئے اور بالوں کو کسی چیز سے جمانے کی مشابہت اختیار نہ کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بال جمائے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 5914.
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 5914.