بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 16 از 102
حدیث نمبر: 4748 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَهُ بِلَيْلٍ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2998
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2998
حدیث نمبر: 4749 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ، وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور اس کی پریشانی دور ہوں اسے چاہئے کہ تنگدست کے لئے کشادگی پیدا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4749]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم هو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم هو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 4750 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ" قَبَّلَ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں کو بوسہ دینے کا موقع ملا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4750]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد. وهو ابن أبى زياد مولي الهاشميين
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد. وهو ابن أبى زياد مولي الهاشميين
حدیث نمبر: 4751 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4751]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2905، وهذا إسناد حسن، عكرمة بن عمار. وإن احتج به مسلم. حسن الحديث، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2905، وهذا إسناد حسن، عكرمة بن عمار. وإن احتج به مسلم. حسن الحديث، وقد توبع
حدیث نمبر: 4752 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيِّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے، لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلایاپلایا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4752]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1922، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1922، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، لكنه متابع
حدیث نمبر: 4753 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو یا تین مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4753]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إ سناد جيد دون قوله: «أو ثلاث»
الحكم: حديث صحيح، وهذا إ سناد جيد دون قوله: «أو ثلاث»
حدیث نمبر: 4754 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجِيءُ الْفِتْنَةُ مِنْ هَاهُنَا، مِنَ الْمَشْرِقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5296، م: 2905
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5296، م: 2905
حدیث نمبر: 4755 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبُو جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذِهِ السَّارِيَةِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَةٍ، يَعْنِي يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اس وقت یہ کھجور کا تنا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4755]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف أبى جناب، و أبوه أبو حية فى عداد المجهولين
الحكم: إسناده ضعيف أبى جناب، و أبوه أبو حية فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 4756 مسند احمد
وَكِيعٌ ، قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، شَيْخٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْخٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلوع صبح صادق کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے سوائے فجر کی دو سنتوں کے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4756]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه و شواهده، وإسناده هنا ضعيف، فهو معضل وفيه راو مبهم، أما الإعضال، فقد سقط منه راويان هما أبو علقمة مولي ابن عباس و يسار مولي ابن عمر وأما الراوي المبهم، فهو أيوب بن حصين، وقيل: محمد بن حصين، وهو مجهول الحال
الحكم: حديث صحيح بطرقه و شواهده، وإسناده هنا ضعيف، فهو معضل وفيه راو مبهم، أما الإعضال، فقد سقط منه راويان هما أبو علقمة مولي ابن عباس و يسار مولي ابن عمر وأما الراوي المبهم، فهو أيوب بن حصين، وقيل: محمد بن
حدیث نمبر: 4757 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَالْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَالْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4757]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1180
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1180
حدیث نمبر: 4758 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ العنبري ، مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ العنبري عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ :" أَتُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ صَلَّاهَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِخَالُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مورق عجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے پوچھا: سیدنا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں، میں نے پوچھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں، میں نے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے تھے؟ فرمایا: میرا خیال نہیں (ہے کہ وہ پڑھتے ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1175
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1175
حدیث نمبر: 4759 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا ذَهَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4759]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 789، العمري . وإن كان فيه ضعف . متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 789، العمري . وإن كان فيه ضعف . متابع
حدیث نمبر: 4760 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، ابْنَ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَر عَنِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؟ فَقَالَ: هَلْ سَمِعْتَ بِمُحَمَّد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَآمَنْتُ، فاهتديت به، قَالَ: فَإِنَّهُ كَانَ" يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
داؤد بن ابی عاصم ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منٰی میں نماز کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام سنا ہے؟ میں نے کہا، جی ہاں! میں ان پر ایمان لا کر راہ راست پر بھی آیا ہوں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر وہ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4760]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 694
الحكم: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 4761 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَصَلَّيْنَا الْفَرِيضَةَ، فَرَأَى بَعْضَ وَلَدِهِ يَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يُصَلُّوا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ، لَأَتْمَمْت.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر پر نکلے، ہم نے فرض نماز پڑھی، اتنی دیر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نظر اپنے کسی بیٹے پر پڑی جو نوافل ادا کر رہا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ سفر میں نماز پڑھی ہے لیکن یہ سب فرائض سے پہلے کوئی نماز پڑھتے تھے اور نہ بعد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی فرض نماز مکمل نہ کر لیتا (قصرکیوں کرتا؟)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1101، م: 689
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1101، م: 689
حدیث نمبر: 4762 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4762]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسنادان ضعيفان لضعف العمري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسنادان ضعيفان لضعف العمري
حدیث نمبر: 4763 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ بِضْعَ عَشْرَةَ مَرَّةً قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر سے پہلے کی سنتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو سنتوں میں بیسیوں یا دسیوں مرتبہ سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4764 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ،" كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا: اے عبداللہ! دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4764]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون قوله: «واعداد نفسك فى الموتي» فهو حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، قوله: «كن فى الدنيا ........» أخرجه البخاري مطولا: 6416
الحكم: صحيح لغيره، دون قوله: «واعداد نفسك فى الموتي» فهو حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، قوله: «كن فى الدنيا ........» أخرجه البخاري مطولا: 6416
حدیث نمبر: 4765 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرَى السَّدُوسِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرَى السَّدُوسِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا" نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں؟)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
حدیث نمبر: 4766 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا نہایت باخبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1039
حدیث نمبر: 4767 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4767]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن زيد بن جدعان، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن زيد بن جدعان، لكنه متابع