بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 19 از 102
حدیث نمبر: 4808 مسند احمد
يَزِيدُ بَنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بَنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ"، وَقَالَ:" تَحَرَّوْهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ" يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْر".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ اسے ستائیسویں رات میں تلاش کرے اور فرمایا کہ شب قدر کو ستائیسویں رات میں تلاش کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4809 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ، قِيلَ: وَمَا الْحَنْتَمَةِ؟ قَال: الْجَرَّةُ، يَعْنِي: النَّبِيذَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «حنتمه» سے منع فرمایا ہے کسی نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: وہ مٹکا جو نبیذ (یا شراب کشید کرنے کے لئے) استعمال ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4810 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَمَثَلِ الْكَلْبِ، أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ، قَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے جب اچھی طرح سیراب ہو جائے تو اسے قے کر دے اور پھر اسی قے کو چاٹنا شروع کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4810]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4811 مسند احمد
يَزِيدُ ، نَافِعِ بْنِ عَمْرِو الْجُمَحِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي بْنِ مُوسَى ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا نَافِعِ بْنِ عَمْرِو الْجُمَحِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي بْنِ مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَمَرَّتْ رُفْقَةٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ فِيهَا أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْباً مَعَهُمْ الْجُلْجُلُ"، فَكَمْ تَرَى فِي هَؤُلَاءِ مِنْ جُلْجُلٍ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سالم کے ساتھ تھا وہاں سے ام البنین کا ایک قافلہ گزرا جس میں گھنٹیاں بھی تھیں، اس موقع پر سالم نے اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور تم ان لوگوں کے پاس کتنی گھنٹیاں دیکھ رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4811]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر تفرد بالرواية عنه نافع بن عمر الجمحي، وقال الذهبي فى «الميزان» 503/4 : لا يعرف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر تفرد بالرواية عنه نافع بن عمر الجمحي، وقال الذهبي فى «الميزان» 503/4 : لا يعرف
حدیث نمبر: 4812 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ هُوَ النَّاجِيُّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ هُوَ النَّاجِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم» ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4813 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ أَوْ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ"، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنْ كَانَ فِي دَارٍ وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ، قَالَ: هُوَ عَلَى رَبِّ الدَّارِ الَّذِي يَمْلِكُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو کھیت کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو، جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر کسی کے گھر میں کتا ہو اور میں وہاں جانے پر مجبور ہوں تو کیا حکم؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کا گناہ گھر کے مالک پر ہو گا جو کتے کا مالک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4813]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1574
الحكم: إسناده صحيح، م: 1574
حدیث نمبر: 4814 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّاسَ قَدْ اجْتَمَعُوا، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ نَزَعَ عُمَرُ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں ابوبکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے۔ پھر عمر نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3633
حدیث نمبر: 4815 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ بعض اوقات اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس انگلیوں میں سے ایک انگوٹھا بند کر لیا (٢٩ دن)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
حدیث نمبر: 4816 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
حدیث نمبر: 4817 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ (ولاء سے مراد غلام کا ترکہ ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6759، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريح مدلس وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، خ: 6759، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريح مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 4818 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، ابْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ " يَتَوَضَّأُ مَرَّةً"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4818]
حکم دارالسلام
هو حديثان : حديث ابن عمر: وإسناده ضعيف، وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534، وحديث ابن عباس: صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 1889
الحكم: هو حديثان : حديث ابن عمر: وإسناده ضعيف، وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534، وحديث ابن عباس: صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 1889
حدیث نمبر: 4819 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257
حدیث نمبر: 4820 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكَادُ يَلْعَنُ الْبَيْدَاءَ، وَيَقُولُ:" إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے۔ (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
حدیث نمبر: 4821 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے، «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1184، ابن جريج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: إسناده صحيح، م: 1184، ابن جريج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4822 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ، وَقَالَ عَفَّانُ: مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًي وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ: فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا، قَالَ حُمَيْدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا، فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ، قَالَ عَفَّانُ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے، اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ!! کیا ہم منٰی کے میدان میں اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرمگاہ سے آب حیات کے قطرے ٹپکتے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر انگیٹھیاں خوشبو اڑانے لگیں، اسی اثنا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یمن سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو احرام ہے وہی میرا بھی احرام ہے۔ روح اس سے آگے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آپ کے ہدی کے جانور ہیں۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث طاؤس سے بیان کی تو وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے اسی طرح کیا تھا، اور عفان کہتے ہیں کہ آگے یہ ہے کہ اسے عمرہ کا احرام بنا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
حدیث نمبر: 4823 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4824 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4825 مسند احمد
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا يَعْنِي ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، وَتَبَايَعُوا بِالْعَيْنِ، وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَتَرَكُوا الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَنْزَلَ اللَّهُ بِهِمْ بَلَاءً، فَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْهُمْ حَتَّى يُرَاجِعُوا دِينَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ دینار و درہم میں بخل کر نے لگیں، عمدہ اور بڑھیا چیزیں خریدنے لگیں، گائے کی دموں کی پیروی کرنے لگیں اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں تو اللہ ان پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک لوگ دین کی طرف واپس نہ آ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4825]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من ابن عمر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من ابن عمر
حدیث نمبر: 4826 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو إِسْرَائِيلُ ، فُضَيْلٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَسَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، حَتَّى صَلَّى الْمُصَلِّي، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ، وَنَامَ النَّائِمُونَ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذَا الْوَقْتَ"، أَوْ هَذِهِ الصَّلَاةَ، أَوْ نَحْوَ ذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں یا اس کے قریب کوئی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4826]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل، وأصل الحديث الصحيح، وهو قوله: «لو لا أن أشق على أمتي ......» أخرجه مسلم : 639
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل، وأصل الحديث الصحيح، وهو قوله: «لو لا أن أشق على أمتي ......» أخرجه مسلم : 639
حدیث نمبر: 4827 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، أَنَّ الْعَبَّاسَ" اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ، فَأَذِنَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت سرانجام دینے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منٰی کے ایام میں مکہ مکرمہ میں ہی رہنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1634، م: 1315
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1634، م: 1315