بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4822
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4822
حدیث نمبر: 4822 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ، وَقَالَ عَفَّانُ: مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًي وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ: فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا، قَالَ حُمَيْدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا، فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ، قَالَ عَفَّانُ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے، اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ!! کیا ہم منٰی کے میدان میں اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرمگاہ سے آب حیات کے قطرے ٹپکتے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر انگیٹھیاں خوشبو اڑانے لگیں، اسی اثنا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یمن سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو احرام ہے وہی میرا بھی احرام ہے۔ روح اس سے آگے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آپ کے ہدی کے جانور ہیں۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث طاؤس سے بیان کی تو وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے اسی طرح کیا تھا، اور عفان کہتے ہیں کہ آگے یہ ہے کہ اسے عمرہ کا احرام بنا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
← پچھلی حدیث (4821) باب پر واپس اگلی حدیث (4823) →