يَزِيدُ ، نَافِعِ بْنِ عَمْرِو الْجُمَحِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي بْنِ مُوسَى ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا نَافِعِ بْنِ عَمْرِو الْجُمَحِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي بْنِ مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَمَرَّتْ رُفْقَةٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ فِيهَا أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْباً مَعَهُمْ الْجُلْجُلُ"، فَكَمْ تَرَى فِي هَؤُلَاءِ مِنْ جُلْجُلٍ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سالم کے ساتھ تھا وہاں سے ام البنین کا ایک قافلہ گزرا جس میں گھنٹیاں بھی تھیں، اس موقع پر سالم نے اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور تم ان لوگوں کے پاس کتنی گھنٹیاں دیکھ رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4811]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر تفرد بالرواية عنه نافع بن عمر الجمحي، وقال الذهبي فى «الميزان» 503/4 : لا يعرف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر تفرد بالرواية عنه نافع بن عمر الجمحي، وقال الذهبي فى «الميزان» 503/4 : لا يعرف