بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 27 از 102
حدیث نمبر: 4968 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ ، ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ يُخْبِرُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَوْ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه ضعف يسير: النعمان بن راشد الجزري ضعيف لكن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، ابن ثوبان حسن الحديث.
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه ضعف يسير: النعمان بن راشد الجزري ضعيف لكن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، ابن ثوبان حسن الحديث.
حدیث نمبر: 4969 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لاَ تُقْبَلُ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَلاَ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4969]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 224، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب.
الحكم: صحيح لغيره، م: 224، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب.
حدیث نمبر: 4970 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فِي الْيَوْمِ الأْوْسَطِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَدَنَا الْقَوْمُ، وَتَنَحَّى ابْنٌ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ له: ادْنُ فاطْعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرٍ"؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایام تشریق کے کسی درمیانی دن میں ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، تھوڑی دیر بعد کھانا آیا اور لوگ قریب قریب ہو گئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: آگے ہو کر کھانا کھاؤ، اس نے کہا کہ میں روزے سے ہوں انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4970]
حکم دارالسلام
حسن، إبراهيم بن مهاجر - و إن كان فى حفظه لين- يحسن حديثه فى المتابعات والشواهد، وهذا منها .
الحكم: حسن، إبراهيم بن مهاجر - و إن كان فى حفظه لين- يحسن حديثه فى المتابعات والشواهد، وهذا منها .
حدیث نمبر: 4971 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" وَمَنْ صَلَّى مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صلاَتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص رات کے آغاز میں نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی کی تلقین فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 998، م: 751.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 998، م: 751.
حدیث نمبر: 4972 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرِيتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيب، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَاسْتَقَى، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى رَوَّى النَّاسُ، وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا فرمایا: میں نے دیکھا کہ میں ایک کنوئیں پر ڈول کھینچ رہا ہوں، اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4972]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3682، م: 2393.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3682، م: 2393.
حدیث نمبر: 4973 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَالْقَزَعُ: التَّرْقِيعُ فِي الرَّأْسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، «قزع» کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5920، م: 2120.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5920، م: 2120.
حدیث نمبر: 4974 مسند احمد
عُثْمَانُ بن عثمان ، عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بن عثمان ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے «قزع» کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4974]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2120.
الحكم: حديث صحيح، م: 2120.
حدیث نمبر: 4975 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيَّ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيَّ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6154.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6154.
حدیث نمبر: 4976 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ" فَصَّ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4976]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 4977 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَالِمًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ عِنْدَ 60 الْكَعْبَةِ 60، مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا، رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے، گھنگریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4977]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169.
حدیث نمبر: 4978 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، فَأَتَى عُمَرُ رضي الله عنه بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ:" إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا"، قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ: وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا"، مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ:" تُشَقِّقُهَا خُمُرًا" أَمْ لَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فِي حَدِيثِهِ: أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: وَجَدَ عُمَرُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، چند دن بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو۔ اسی طرح سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ ریشمی جوڑا پہن رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھجوایا تھا، میں نے تو اس لئے بھجوایا تھا کہ تم اسے فروخت کر دو یہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 948، م: 2068.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 948، م: 2068.
حدیث نمبر: 4979 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَنْظَلَةُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَقَدْ لَبِسَهَا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ كَسَوْتَنِي، قَالَ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ نِسَائِكَ خُمُرًا، أَوْ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ریشمی لباس پہن کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہی نے تو مجھے پہنایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا اپنی ضرورت پوری کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5841، م: 2068 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5841، م: 2068 .
حدیث نمبر: 4980 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَنْظَلَةَ ، سَالِمًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ:" ها، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يُطْلِعُ الشَّيْطَانُ قَرْنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا: فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2905 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2905 .
حدیث نمبر: 4981 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعْيدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْيدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080.
حدیث نمبر: 4982 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَكَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو میں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 4983 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ ثَلَاثًا مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَمَشَى أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چاروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4983]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1617، م: 1261.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1617، م: 1261.
حدیث نمبر: 4984 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، فَجَعَلَتْ نِسَاءُ 61 الْأَنْصَارِ 61 يَبْكِينَ عَلَى مَنْ قُتِلَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ"، قَالَ: ثُمَّ نَامَ، فَاسْتَنْبَهَ وَهُنَّ يَبْكِينَ، قَالَ:" فَهُنَّ الْيَوْمَ إِذًا يَبْكِينَ يَنْدُبْنَ بِحَمْزَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے، تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شہید ہونے والے شوہروں پر رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے؟، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ لگ گئی بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4984]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4985 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ"، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہو جاتا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا (عذاب میں تو سب نیک وبد شریک ہوں گے جزا و سزا اعمال کے مطابق ہو گی)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7108، م: 2879.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7108، م: 2879.
حدیث نمبر: 4986 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَا أَتَيْتُ عَلَى الرُّكْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ، فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ، إِلَّا مَسَحْتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے، اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4987 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الْفَجْرَ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے جب طلوع فجر ہونے لگے تو ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749.