بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 97 از 102
حدیث نمبر: 6368 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا، عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَقَرُّوا بِهَا، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ , وَأَرِيحَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودونصاریٰ کو ارض حجاز سے جلاوطن کر دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب خیبر کو فتح فرمایا: تھا تو اسی وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرما لیا تھا کیونکہ زمین تو اللہ کی اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی ہے لیکن یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں یہیں رہنے دیں وہ محنت کر نے سے مسلمانوں کی کفایت کر یں گے اور نصف پھل انہیں دیا کر یں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک ہم چاہیں گے تمہیں یہاں رہنے دیں گے (یعنی یہ ہماری صوابدید پر محمول ہو گا) چنانچہ وہ لوگ وہاں رہتے رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحا کی طرف جلا وطن کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2338، م: 1551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2338، م: 1551
حدیث نمبر: 6369 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844
الحكم: إسناده صحيح، م: 844
حدیث نمبر: 6370 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبریہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844
الحكم: إسناده صحيح، م: 844
حدیث نمبر: 6371 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعًا ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ فِيهِ"، فَقُلْتُ أَنَا لَهُ , يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ , فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے میں نے راوی سے پوچھا کہ جمعہ کے دن ایسا کر نے کی ممانعت مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: کہ جمعہ اور غیر جمعہ کو شامل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 911، م: 2177
الحكم: إسناده صحيح، خ: 911، م: 2177
حدیث نمبر: 6372 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى بِاللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ، فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوَتْرُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے جب طلوع فجر ہو جائے تو رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہو گیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلوع فجر سے قبل وتر پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6372]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 998، م: 751
الحكم: حديث صحيح، خ: 998، م: 751
حدیث نمبر: 6373 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ"، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 998، م: 751
الحكم: إسناده صحيح، خ: 998، م: 751
حدیث نمبر: 6374 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ"، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کر دی اور نہ ہم اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ میں آپ سے اپنے اس سفر میں نیکی تقویٰ اور آپ کو راضی کر نے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں اے اللہ اس سفر کو ہم پر آسان فرما جگہ کی دوریاں ہمارے لئے لپیٹ دے اے اللہ سفر میں تو میرا رفیق ہے اور میرے اہل خانہ کا جانشین ہے اے اللہ سفر میں ہمارے رفاقت فرما ہمارے پیچھے ہمارے اہل خانہ میں ہماری جانشینی فرما اور جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو یہ دعاء فرماتے توبہ کرتے ہوئے لوٹ کر انشاء اللہ آ رہے ہیں اپنے رب کی عبادت اور اس کی تعریف کرتے ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1342
الحكم: إسناده صحيح، م: 1342
حدیث نمبر: 6375 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً جَاءَهُ خَبَرٌ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا وَجِعَةٌ، فَارْتَحَلَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعَصْرَ، وَتَرَكَ الْأَثْقَالَ، ثُمَّ أَسْرَعَ السَّيْرَ، فَسَارَ حَتَّى حَانَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," إِذَا اسْتَعْجَلَ بِهِ السَّيْرُ، أَخَّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک مرتبہ دو نمازوں کو اکٹھا کیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ انہیں صفیہ بنت ابی عبید کی بیماری کی خبر معلوم ہوئی وہ عصر کی نماز کے بعد روانہ ہوئے اور سامان وہیں چھوڑ دیا اور اپنی رفتار تیز کر دی دوران سفر نماز نماز مغرب کا وقت آگیا ان کے کسی ساتھی نے انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے لیکن انہوں نے اسے کوئی جواب نہیں دیادوسرے نے کہا انہوں نے اسے بھی کوئی جواب نہ دیا پھر تیسرے نے کے کہنے پر بھی جواب نہ دیاچوتھی مرتبہ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چلنے میں جلدی ہوتی تھی تو اس نماز کو مؤخر کر کے دو نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 6376 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھلوں کی بیع کھجور کے بدلے اور کھجور کی بیع پھلوں کے بدلے اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک وہ اچھی طرح پک نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2183، م: 1534
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2183، م: 1534
حدیث نمبر: 6377 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَيْفَ السُّنَّةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ وَرَاءَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ، فَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَفُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ، فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6378 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيَّ ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ، وَصَافَفْنَاهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نجد کے جانب ایک غزوے میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو ہم نے صف بندی کر لی پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 942، م: 839
الحكم: إسناده صحيح، خ: 942، م: 839
حدیث نمبر: 6379 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضْرَبُونَ إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَنْقُلَهُ إِلَى رَحْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مارپڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6852، م: 1527
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6852، م: 1527
حدیث نمبر: 6380 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا فِيهَا ثَمَرَةٌ قَدْ أُبِرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا سارا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے اور جو شخص پیوند کاری کئے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچتا ہے تو اس کا پھل بھی بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1543
حدیث نمبر: 6381 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
حدیث نمبر: 6382 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ: جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا، قَالَ: وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا، أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ , قَالَ: فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ" مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو غالباً بنو جذیمہ کی طرف بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی وہ لوگ صاف لفظوں میں یہ تو نہیں کہہ سکے کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا البتہ وہ یہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنا دین بدل لیا (لفظ صبأنا کا معنی بےدین ہونا ہے) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قیدی بنانا اور قتل کرنا شروع کر دیا اور ہم میں سے ہر آدمی کے حوالے ایک ایک قیدی کر دیاجب صبح ہوئی تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے میں نے کہا کہ میں تو اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی ایسا کرے واپسی پر لوگوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تذکر ہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ فرمایا: اے اللہ خالد نے جو کچھ کیا میں اس سے بری ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4339
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4339
حدیث نمبر: 6383 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ، وَتَجْحَدُهُ،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو ادھار پر چیزیں لے کر بعد میں مکر جاتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والأشبه إرساله فيما ذكر الدارقطني
الحكم: حديث صحيح، والأشبه إرساله فيما ذكر الدارقطني
حدیث نمبر: 6384 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَالَ:" وَلِلْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا: اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرمادے ایک صاحب نے عرض کیا قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا: کہ اے اللہ قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرمادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1301
الحكم: إسناده صحيح، م: 1301
حدیث نمبر: 6385 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِرَجْمِهِمَا، فَلَمَّا رُجِمَا رَأَيْتُهُ" يُجَانِئُ بِيَدَيْهِ عَنْهَا لِيَقِيَهَا الْحِجَارَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس وقت دو مرد و عورت کو سنگسار کر نے کا حکم دیا میں وہاں موجود تھا جب انہیں سنگسار کیا جانے لگا تو میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے جھکا پڑ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6385]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
حدیث نمبر: 6386 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا لِكُلِّ رَجُلٍ، ثُمَّ نَفَّلَنَا بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا: ہمیں مال غنیمت ملا اور ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے عطاء فرمایا: ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4338، م: 1749
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4338، م: 1749
حدیث نمبر: 6387 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّينَ فِي الْمَسْجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی باندیوں کو مساجد میں آنے سے مت روکو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442