بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 41 از 102
حدیث نمبر: 5248 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2085 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2085 .
حدیث نمبر: 5249 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَيَزِيدُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَمَى بِهِ، وَقَالَ:" لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا"، قَالَ يَزِيدُ: فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ آئندہ میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5867 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5867 .
حدیث نمبر: 5250 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، وَسُفْيَانُ ، عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5250]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان .
الحكم: إسناداه صحيحان .
حدیث نمبر: 5251 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَنَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَنَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ" يَلْبَسُ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَذَكَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہن لیتے اور ان میں وضو کر لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5251]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 5252 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2998 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2998 .
حدیث نمبر: 5253 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1574 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1574 .
حدیث نمبر: 5254 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وعبدُ الرحمن ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وعبدُ الرحمن ، عن سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: نُقِصَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5254]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5480 ، م : 1574 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5480 ، م : 1574 .
حدیث نمبر: 5255 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَالْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَالْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5255]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له إسنادان : الأول : وكيع عن سفيان عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر ، و هو صحيح - و الثاني : وكيع عن العمري عن نافع ، وهو ضعيف لضعف عبد الله بن عمر .
الحكم: هذا الحديث له إسنادان : الأول : وكيع عن سفيان عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر ، و هو صحيح - و الثاني : وكيع عن العمري عن نافع ، وهو ضعيف لضعف عبد الله بن عمر .
حدیث نمبر: 5256 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، ابن عمر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَلْقَةٍ، قَالَ: فَسَمِعَ رَجُلًا فِي حَلْقَةٍ أُخْرَى وَهُوَ يَقُولُ: لَا وَأبي، فرماه ابن عمر بالحَصَى، فقال: إنَّها كانت يمينَ عمر، فنهاه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، وَقَالَ:" إِنَّهَا شِرْكٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک حلقہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دوسرے حلقے میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو «لا وابي» کہہ کر قسم کھاتے ہوئے سنا، تو اسے کنکر یاں ماریں اور فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طرح قسم کھاتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شرک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5256]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات .
الحكم: رجاله ثقات .
حدیث نمبر: 5257 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" إِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِي، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے اور میں انتہائی بوڑھا ہو چکا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5257]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، عطاء السائب قد اختلط ، و كثير بن جمهان لم يوثقه غير ابن حبان .
الحكم: إسناده ضعيف ، عطاء السائب قد اختلط ، و كثير بن جمهان لم يوثقه غير ابن حبان .
حدیث نمبر: 5258 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرحمن ، سُفْيَانُ ، ابْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرحمن ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6288 ، م : 2183 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6288 ، م : 2183 .
حدیث نمبر: 5259 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5260 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَفَّرَ رَجُلًا، فَأَحَدُهُمَا كَافِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص کسی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہوتا ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5261 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ اسلم، اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5261]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان .
الحكم: إسناداه صحيحان .
حدیث نمبر: 5262 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص پر نوحہ کیا جائے اسے قیامت تک اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1286 ، م : 928 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1286 ، م : 928 .
حدیث نمبر: 5263 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيِّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دعوت قبول نہ کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5263]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
الحكم: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 5264 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادٍ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ، مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا"، يَعْنِي: إِلَى الصَّدْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ تمہارا رفع یدین کرنا بدعت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینے سے آگے ہاتھ نہیں بڑھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5264]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، بشر بن حرب الأزدي ضعفه ابن معين و أبو زرعة و النسائي و أبو حاتم .
الحكم: إسناده ضعيف ، بشر بن حرب الأزدي ضعفه ابن معين و أبو زرعة و النسائي و أبو حاتم .
حدیث نمبر: 5265 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، عَطَاءٍ ، كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ:" إِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں؟ فرمایا: اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5265]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، عطاء السائب قد اختلط ، وكثير بن جمهان لم يوثقه غير ابن حبان .
الحكم: إسناده ضعيف ، عطاء السائب قد اختلط ، وكثير بن جمهان لم يوثقه غير ابن حبان .
حدیث نمبر: 5266 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ، فَقَالَ: مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ وَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْض مَا يَزِنُ هَذِهِ، أَوْ مِثْلَ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ، أَوْ ضَرَبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1657 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1657 .
حدیث نمبر: 5267 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، زَاذَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَدَعَا غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا لِي فِيهِ مِنْ أَجْرٍ مَا يَسْوَى هَذَا، أَوْ يَزِنُ هَذَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ضَرَبَ عَبْدًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ ظَلَمَهُ، أَوْ لَطَمَهُ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1657 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1657 .