بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5266
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5266
حدیث نمبر: 5266 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ، فَقَالَ: مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ وَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْض مَا يَزِنُ هَذِهِ، أَوْ مِثْلَ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ، أَوْ ضَرَبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1657 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1657 .
← پچھلی حدیث (5265) باب پر واپس اگلی حدیث (5267) →