بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 95 از 102
حدیث نمبر: 6328 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محا رب بن دثار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6328]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6329 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟! قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَذَهَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا"، قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ رَوْحٌ: مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس شخص کے متعلق سوال ہوتے ہوئے سنا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو انہوں نے فرمایا: کہ کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے سائل نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا: اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1471
الحكم: إسناده صحيح، م: 1471
حدیث نمبر: 6330 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا، فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا، فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي، فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ , لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ"، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ: لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں جو آدمی بھی کوئی خواب دیکھتا وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیان کرتا میری خواہش ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اسے بیان کروں میں اس وقت غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور مسجد نبوی میں ہی سو جاتا تھا بالآخر ایک دن میں نے بھی خواب دیکھ ہی لیا اور وہ یہ کہ دو فرشتوں نے آ کر مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے جانے لگے وہ ایسے لپٹی ہوئی تھی جیسے کنواں ہوتا ہے اور محسوس ہوا کہ جیسے اس کے دوسینگ ہیں اس میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آئے جنہیں میں نے پہچان لیا میں باربار اعوذباللہ من النار کہنے لگا اتنی دیر میں ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتے کی ملاقات ہوئی وہ مجھ سے کہنے لگا کہ تم گھبراؤ نہیں۔ میں نے یہ خواب اپنی بہن ام المؤمنین سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے کاش وہ رات کو بھی نماز پڑھا کرتا سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت تھوڑی دیر کے لئے سوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6330]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1121، م: 2479
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1121، م: 2479
حدیث نمبر: 6331 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَصَنَعَ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، قَالَ فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ، قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ صَنَعْتُ خَاتَمًا، وَكُنْتُ أَلْبَسُهُ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برسر منبر اسے پھینک دیا اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف کر لیتا تھا واللہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2091
الحكم: إسناده صحيح، م: 2091
حدیث نمبر: 6332 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6332]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2020
الحكم: حديث صحيح، م: 2020
حدیث نمبر: 6333 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6333]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2020، وهذه الرواية مرسلة
الحكم: حديث صحيح، م: 2020، وهذه الرواية مرسلة
حدیث نمبر: 6334 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يحدثان، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6335 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِالْمَدِينَةِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ"، فَأُخْبِرَ بِامْرَأَةٍ لَهَا كَلْبٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقُتِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کتوں کو مارنے کا حکم دیا ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیج کر اس کا کتا بھی مروا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1570
الحكم: إسناده صحيح، م: 1570
حدیث نمبر: 6336 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنات کو قتل کر نے سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3297، م: 2233
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3297، م: 2233
حدیث نمبر: 6337 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْهُ، عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی دعوت دے تو اسے قبول کر لینا چاہئے خواہ وہ شادی کی ہو یا کسی اور چیز کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1429
الحكم: إسناده صحيح، م: 1429
حدیث نمبر: 6338 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
حدیث نمبر: 6339 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ، فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِلْوُفُودِ وَلِلْعِيدِ وَلِلْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، حَسِبْتُهُ قَالَ:" فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ: ثُمَّ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَلٌ مِنْ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ، فَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَأَعْطَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حُلَّةً، وَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحُلَّةٍ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا"، وَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِحُلَّةٍ؟ فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُرْسِلْهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ لِتَبِيعَهَا"، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَلَبِسَهَا، فَرَاحَ فِيهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةُ يُحَدَّدُ إِلَيْهِ الطَّرْفَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا؟ قَالَ:" شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا"، أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کو کچھ ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا تو بارگارہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اس میں سے ایک جوڑا خرید لیتے تو وفود کے سامنے اور عید اور جمعہ کے موقع پر پہن لیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا کوئی آخرت میں حصہ نہ ہو۔ کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کچھ ریشمی جوڑے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودے دیا ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کودے دیا اور ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اسے پھاڑ کر اس کے دوپٹے عورتوں میں تقسیم کر دو اسی اثنا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے ریشم کے متعلق آپ کو جو فرماتے ہوئے سنا تھا وہ آپ ہی نے فرمایا: تھا اور پھر آپ ہی نے مجھے یہ جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لوجب کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا پہن لیا اور باہر نکل آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں تیز نظروں سے دیکھنے لگے جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں گھور کر دیکھ رہے ہیں تو کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ ہی نے مجھے یہ لباس پہنایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پھاڑ کر عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2068
الحكم: إسناده صحيح، م: 2068
حدیث نمبر: 6340 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ، فَارْفَعْ إِزَارَكَ"، قَالَ: فَرَفَعْتُهُ، قَالَ:" زِدْ"، قَالَ: فَرَفَعْتُهُ، حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَسْتَ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہنبد زمین پر لٹکاتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
حدیث نمبر: 6341 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء کیا کرو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6118، م: 36
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6118، م: 36
حدیث نمبر: 6342 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتاہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6342]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان
الحكم: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 6343 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"، فَقَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْعِلْمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
حدیث نمبر: 6344 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7007، م: 2391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7007، م: 2391
حدیث نمبر: 6345 مسند احمد
الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر کہتے وقت اپنے کندھوں کے برابر یا قریب کر کے رفع یدین کرتے تھے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6346 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ربنا ولک الحمد کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6347 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آدمی کو نماز میں اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا: ہے کہ وہ اپنے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح