بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 56 از 102
حدیث نمبر: 5548 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَهُوَ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5921
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5921
حدیث نمبر: 5549 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں، سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو اور رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر کی رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5549]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله : «صلاة المغرب وتر صلاة النهار فأوتروا صلاة الليل» .
الحكم: صحيح دون قوله : «صلاة المغرب وتر صلاة النهار فأوتروا صلاة الليل» .
حدیث نمبر: 5550 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے۔ قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2120
الحكم: إسناده صحيح، م: 2120
حدیث نمبر: 5551 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدًا مَنْ طَاعَةِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص "جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1851، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1851، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5552 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ ، قَالَ:" خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْنَا: مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ، قَالَ: وَمَا ذُو الْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَكَانًا نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ، وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، قَالَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ، كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ، لَا أَدْرِي قَالَ: أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصْبَ عَيْنِي يُصَلِّيهِمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَزَعَ هَذِهِ الْآيَةَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21"، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن شراجیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے, کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں"، میں نے پوچھا اگر ہم ذی المجاز میں ہوں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے پوچھا: ذوالمجاز کس چیز کا نام ہے؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خریدو فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گزارتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے شخص میں آذر بائجان میں تھا وہاں چار یا دو ماہ رہا (یہ یاد نہیں) میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5552]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5553 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، سالِمًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سالِمًا ، يَقُولُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي الْمَقَامَ، رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ؟ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ، ثُمَّ رَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ مِنْهُ ابْنُ قَطَنٍ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے قریب مقام ابراہیم کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں، پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5553]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169
حدیث نمبر: 5554 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا أَوَّلْتَهُ؟ قَالَ:" الْعِلْمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اسے اتنا پیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا، پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
حدیث نمبر: 5555 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ حُجْرَتَهُ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ، فَلَا يُفَارِقَنَّكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ بَيْعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا، ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے حجرے میں داخل ہو رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑے پکڑ کر یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5555]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه
حدیث نمبر: 5556 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، فَرَأَى أَصْحَابُهُ أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ"، قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي مِجْلَزٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سجدہ تلاوت کیا, صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت سجدہ کی تلاوت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5556]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن سليمان بن طرخان التيمي قد صرح فى آخر الحديث بأنه لم يسمع من أبى مجلز: لاحق بن حميد، فهو منقطع .
الحكم: رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن سليمان بن طرخان التيمي قد صرح فى آخر الحديث بأنه لم يسمع من أبى مجلز: لاحق بن حميد، فهو منقطع .
حدیث نمبر: 5557 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَوَجْهُهُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، تَطَوُّعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گدھے پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرق کو جا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5557]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 700
الحكم: إسناده صحيح، م: 700
حدیث نمبر: 5558 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَتَحْتَهُ عَشَرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا، ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں،اور ان سب نے بھی ان کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو (اور باقی چھ کو طلاق دے دو)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5558]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن معمرا أخطأ فيه كما سلف بيانه بالرواية رقم: 4609، ويزيد بن هارون سمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن معمرا أخطأ فيه كما سلف بيانه بالرواية رقم: 4609، ويزيد بن هارون سمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 5559 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ مَكَانَهَا الْوَرِقَ، وَأَبِيعُ بِالْوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ بِالْقِيمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینارلے لیتا، ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے باہرپایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر قیمت کے بدلے میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه
حدیث نمبر: 5560 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَا أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَلَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے) لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5560]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 5561 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، قَالَ:" قُلْ: لَا خِلَابَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! خرید و فروخت میں لوگ مجھے دھوکہ دے دیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1533.
الحكم: إسناده صحيح، م:1533.
حدیث نمبر: 5562 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِأَخَرَةٍ الْآنَ وَلَلدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہم نے ایک زمانہ وہ دیکھا ہے جب ہماری نظروں میں درہم و دینار والا اپنے غریب مسلمان بھائی سے زیادہ حقدار نہ ہوتا تھا اور اب ہم یہ زمانہ دیکھ رہے ہیں کہ جس میں دینار و درہم ایک مسلمان بھائی سے زیادہ عزیز ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5562]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب كثير الأوهام.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب كثير الأوهام.
حدیث نمبر: 5563 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ:" لَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ" فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَجِئْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَسَمِعَهُنَّ وَهُنَّ يَبْكِينَ، فَقَالَ:" وَيْحَهُنَّ! لَمْ يَزَلْنَ يَبْكِينَ بَعْدُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ؟! مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ، وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شوہروں پر رونے لگیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ لگ گئی، بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رورہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آج حمزہ کے نام لے کر روتی ہی رہیں گی انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر مت روئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5563]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد .
الحكم: إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد .
حدیث نمبر: 5564 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبُو الْفَضْلِ أَوْ ابْنُ الْفَضْلِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَوْ ابْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ"، حَتَّى عَدَّ الْعَادُّ بِيَدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ جملہ «اللّهُمَّ اغفِرليِ وَتُب عَلَيَّ اِنَّكَ اَنتَ التَوَّابُ الغَفُورٌ» دہرانے لگے حتٰی کہ گننے والے نے اسے اپنے ہاتھ پر سو مرتبہ شمار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5564]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يونس بن خباب ضعف، وأبو الفضل أو ابن الفضل مجهول، لكن سلف هذا الحديث برقم: 4726، و5354 من غير هذا الطريق، فهو صحيح .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يونس بن خباب ضعف، وأبو الفضل أو ابن الفضل مجهول، لكن سلف هذا الحديث برقم: 4726، و5354 من غير هذا الطريق، فهو صحيح .
حدیث نمبر: 5565 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، الشَّعْبِيُّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ : أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَقَدْ قَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ، أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا! قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ، فَنَادَتْهُمْ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا أَوْ اطْعَمُوا، فَإِنَّهُ حَلَالٌ أوَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ، تَوْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ڈیڑھ دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث نہیں سنی (اور حسن کو دیکھ کر وہ کتنی حدیثیں بیان کرتے ہیں) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ " جن میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے " دسترخوان پر موجود گوشت کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے پکار کر کہا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے یہ سنتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہ رک گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کھالو یہ حلال ہے اور اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ میرے کھانے کی چیز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7267، م: 1944 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7267، م: 1944 .
حدیث نمبر: 5566 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، حَكِيمًا الْحَذَّاءَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعْتُ حَكِيمًا الْحَذَّاءَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ " سُئِلَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکیم حذاء کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5566]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل حكيم الحذاء .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل حكيم الحذاء .
حدیث نمبر: 5567 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، أَبَا الْخَصِيبِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ ، قَالَ:" كُنْتُ قَاعِدًا، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِ، وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا كَانَ عَلَيْكَ لَوْ قَعَدْتَ؟ فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ أَقْعُدُ فِي مَقْعَدِكَ وَلَا مَقْعَدِ غَيْرِكَ، بَعْدَ شَيْءٍ شَهِدْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالخصیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے، ایک آدمی اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں نہیں بیٹھے بلکہ دوسری جگہ جا کر بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا کہ اگر آپ وہاں بیٹھ جاتے تو کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انہوں نے فرمایا: میں تمہاری یا کسی اور کی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں ایک آدمی آیا، دوسرے شخص نے اٹھ کر اپنی جگہ اس کے لئے خالی کر دی اور وہ آنے والا اس کی جگہ پر بیٹھنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5567]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى الخصيب، فلم يؤثر توثيقه إلا عن ابن حبان، وقال الذهبي فى الميزان: لا يعرف .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى الخصيب، فلم يؤثر توثيقه إلا عن ابن حبان، وقال الذهبي فى الميزان: لا يعرف .