يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ مَكَانَهَا الْوَرِقَ، وَأَبِيعُ بِالْوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ بِالْقِيمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینارلے لیتا، ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے باہرپایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قیمت کے بدلے میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه