بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 20 از 102
حدیث نمبر: 4828 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ، وَذَكَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں رات گزارتے تھے اور ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یوں ہی کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1310
الحكم: إسناده صحيح، م: 1310
حدیث نمبر: 4829 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4829]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 4830 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2003
الحكم: إسناده صحيح، م: 2003
حدیث نمبر: 4831 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن، عمرو بن علقمة صدوق حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن، عمرو بن علقمة صدوق حسن الحديث
حدیث نمبر: 4832 مسند احمد
مُعَاذٌ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ"، قَالَ: وَحَرَّكَ أِصْبَعَيْهِ يَلْوِيهِمَا هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق و متحد) رہیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3501، م: 1820
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3501، م: 1820
حدیث نمبر: 4833 مسند احمد
مُعَاذٌ ، عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرِى ، ابْنُ عُمَرَ:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرِى ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں؟)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4833]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
حدیث نمبر: 4834 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُسْلِمٍ ، رَجُلٌ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ مُعَاذٌ: كَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ: الْقُرِّيِّ، قَالَ: قَالَ: رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ، أَسُنَّةٌ هُوَ؟ قَالَ: مَا سُنَّةٌ،" أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ"، قَالَ: لَا، أَسُنَّةٌ هُوَ؟! قَالَ: مَهْ أََتَعْقِلُ؟! أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وتر سنت ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سنت کا کیا مطلب؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور تمام مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں، اس نے کہا میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا وتر سنت ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رکو! کیا تمہاری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4835 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ نِعَالٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ نِعَالٌ فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: إِمَّا قَالَ:" مَصْبُوغٌ"، وَإِمَّا قَالَ:" مَسَّهُ وَرْسٌ وَزَعْفَرَانٌ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَفِي كِتَابِ نَافِعٍ:" مَسَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ!! محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا، الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5794
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5794
حدیث نمبر: 4836 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لِابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٌ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَذَكَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ ذَاكَ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ مکرمہ کے راستے میں کوئی باندی خریدی اسے اپنے ساتھ حج پر لے گئے وہاں جوتی تلاش کی لیکن مل نہ سکی انہوں نے موزے نیچے سے کاٹ کر ہی اسے پہنا دیئے) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح کرتے تھے پھر صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواتین کو موزے پہننے کی رخصت دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4836]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد ذكر هنا سماعه من الزهري، فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد ذكر هنا سماعه من الزهري، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4837 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ :" أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ قَالَ: نَعَمْ،" قَالَ: وَقَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں!، طاؤس کہتے ہیں: بخدا! یہ بات میں نے خود سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4838 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَهُوَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1395
الحكم: إسناده صحيح، م: 1395
حدیث نمبر: 4839 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
حدیث نمبر: 4840 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" لَا يَتَحَيَّنَنَّ أَحَدُكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 582، م: 828
الحكم: إسناده صحيح، خ: 582، م: 828
حدیث نمبر: 4841 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 547
الحكم: إسناده صحيح، م: 547
حدیث نمبر: 4842 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈال لیتے اور اونٹنی انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2865، م: 1187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2865، م: 1187
حدیث نمبر: 4843 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَكَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طریق شجرہ سے نکلتے تھے اور جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ثنیہ سفلیٰ سے باہر جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4844 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثَةً، وَمَشَى أَرْبَعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1617، م: 1261
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1617، م: 1261
حدیث نمبر: 4845 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا، أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا، ذَهَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 789
الحكم: إسناده صحيح، م: 789
حدیث نمبر: 4846 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1191، م: 1399
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1191، م: 1399
حدیث نمبر: 4847 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں، سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح