بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 37 از 102
حدیث نمبر: 5168 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5951 ، م : 2108 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5951 ، م : 2108 .
حدیث نمبر: 5169 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 844 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 844 .
حدیث نمبر: 5170 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں سفر پر جاتے وقت قرآن اپنے ساتھ لے جانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1869 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1869 .
حدیث نمبر: 5171 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5172 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا نُهِلُّ؟ قَالَ:" يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّاْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَالَ:" وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1525 ، م : 1182 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1525 ، م : 1182 .
حدیث نمبر: 5173 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ النِّسَاءَ، فَقَالَ:" تُرْخِي شِبْرًا"، قَالَتْ: إِذَنْ تَنْكَشِفَ، قَالَ:" فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (سلیمان رحمہ اللہ کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پائنچوں میں آ رہی ہوتی ہے) فرمایا: ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کرو، انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5173]
حکم دارالسلام
في الحديث إسنادان : أحدهما عن ابن عمر ، و الثاني عن أم سلمة ، وكلاهما صحيح ، حديث ابن عمر أخرجه مسلم : 2085 .
الحكم: في الحديث إسنادان : أحدهما عن ابن عمر ، و الثاني عن أم سلمة ، وكلاهما صحيح ، حديث ابن عمر أخرجه مسلم : 2085 .
حدیث نمبر: 5174 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھوٹے اور بڑے اور آزاد و غلام سب پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1512 ، م : 984 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1512 ، م : 984 .
حدیث نمبر: 5175 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے۔ قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 2120 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 2120 .
حدیث نمبر: 5176 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا الْبَابَ، وَمَكَثُوا سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، فَلَمَّا فُتِحَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ"، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ اگلے دو ستونوں کے درمیان، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 468 ، م : 1329 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 468 ، م : 1329 .
حدیث نمبر: 5177 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ، فَأَعْطَاهَا عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا، فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا، قَالَ: فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَبْتَاعُهَا؟ قَالَ:" لَا تَبْتَعْهَا، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا، وہ گھوڑا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے کیا تھا تاکہ وہ کسی کو سواری کے لئے دے دیں، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ گھوڑا بازار میں بک رہا ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسے خریدنے کا مشورہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع مت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2775 ، م : 1621 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2775 ، م : 1621 .
حدیث نمبر: 5178 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وعُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے ساتھ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل کرنا شروع کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1082 ، م : 694 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1082 ، م : 694 .
حدیث نمبر: 5179 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، لَمْ أُصِبْ شَيْئًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا" قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا، لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا تُوهَبُ، وَلَا تُورَثُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَالضَّيْفِ، وَالرِّقَابِ، وَفِي السَّبِيلِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا، غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (کو خیبر میں ایک زمین حصے میں ملی، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق مشورہ لینا چاہا، چنانچہ انہوں) نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے حصے میں خیبر کی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا آیا ہے کہ اس سے زیادہ عمدہ مال میرے پاس کبھی نہیں آیا، (آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو، چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء، قریبی رشتہ داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ اس زمین کے متولی کے لئے خود بھلے طریقے سے اس میں سے کچھ کھانے میں یا اپنے دوست کو جو اس سے اپنے مال میں اضافہ نہ کرنا چاہتا ہو، کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2737 ، م : 1632 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2737 ، م : 1632 .
حدیث نمبر: 5180 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" بَعَثَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، بَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا، ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1749 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1749 .
حدیث نمبر: 5181 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الْمُضَمَّرَةِ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروا یا، ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے، ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2868 ، م : 1870 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2868 ، م : 1870 .
حدیث نمبر: 5182 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهَلْ، هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ قَدْ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے، لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہیں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا، ٢٩ دن ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالاخانے سے نیچے آ گئے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5182]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح ، وهذا اسناد حسن .
الحكم: المرفوع منه صحيح ، وهذا اسناد حسن .
حدیث نمبر: 5183 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ، فَإِنَّ" الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء نہ کیا کرو) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 24 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 24 .
حدیث نمبر: 5184 مسند احمد
يَحْيَى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خرید و فروخت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1534 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1534 .
حدیث نمبر: 5185 مسند احمد
يَحْيَى ، عِيسَى بْنِ حَفْصٍ ، أَبِي ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى طِنْفِسَةٍ له، فَرَأَى نَاسًا يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ، لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ، فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ، فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر پر تھا، انہوں نے ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی، پھر اپنی چٹائی پر کھڑے ہوئے، تو کچھ لوگوں کو فرض نماز کے بعد نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے بتایا کہ نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی فرض نماز مکمل نہ کر لیتا (قصر کیوں کرتا؟) میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال تک ان کی رفاقت کا شرف حاصل کیا ہے، وہ دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اسی طرح ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1102 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1102 .
حدیث نمبر: 5186 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا، وَلَا عَلَى أَثَرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھی اور ان کے درمیان یا ان کے بعد نوافل نہیں پڑھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1673 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1673 .
حدیث نمبر: 5187 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ"، وقَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا، کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں طاؤس کہتے ہیں، بخدا! یہ بات میں نے خود سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1997 .
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1997 .