يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا الْبَابَ، وَمَكَثُوا سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، فَلَمَّا فُتِحَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ"، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ اگلے دو ستونوں کے درمیان، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 468 ، م : 1329 .
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 468 ، م : 1329 .