يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهَلْ، هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ قَدْ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے“، لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہیں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا، ٢٩ دن ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالاخانے سے نیچے آ گئے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5182]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح ، وهذا اسناد حسن .
الحكم: المرفوع منه صحيح ، وهذا اسناد حسن .