بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 76 از 102
حدیث نمبر: 5948 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَا صُمْتُ عَرَفَةَ قَطُّ , وَلَا صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَبُو بَكْرٍ , وَلَا عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے یوم عرفہ کا روزہ کبھی نہیں رکھا، نیز اس دن کا روزہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں سے بھی کسی نے نہیں رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5948]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5949 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَدْرِي، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے، میں ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مار کر فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں، تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5949]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وروي موقوفا وهو أصح.
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وروي موقوفا وهو أصح.
حدیث نمبر: 5950 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ" يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، وَيَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ، وَيُلَبِّي إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ"، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی کو رنگتے تھے، رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہنتے تھے، حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے اور تلبیہ اس وقت پڑھتے تھے جب سواری انہیں لے کر سیدھی ہو جاتی اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5950]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5951 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ مِنْ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ، أَوْ نَحْوِ هَذَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا هِيَ ثِيَابُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَنْفِعَ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر دیکھا تو فرمایا کہ میں نے اسے تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا کیونکہ دنیا میں یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5951]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
حدیث نمبر: 5952 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
حدیث نمبر: 5953 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سِنَانُ بْنُ هَارُونَ ، كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، فَمَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ:" يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُوماً"، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتنوں کا تذکر ہ فرما رہے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی گزرا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اس موقع پر یہ نقاب پوش آدمی مظلوم ہونے کی حالت میں شہید ہو جائے گا، میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5953]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 5954 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابوعبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا، ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو انہوں نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے پوچھا مٹکے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5954]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1997، وهذا الإسناد ظاهره الانقطاع، لكن صرح قتادة عند أبي عوانة: 301/5 باتصاله كما سيرد.
الحكم: حديث صحيح، م: 1997، وهذا الإسناد ظاهره الانقطاع، لكن صرح قتادة عند أبي عوانة: 301/5 باتصاله كما سيرد.
حدیث نمبر: 5955 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ يَذْكُرُ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ شَجَرَةً يُنْتَفَعُ بِهَا، مِثْلَ الْمُؤْمِنِ، هِيَ الَّتِي لَا يُنْفَضُ وَرَقُهَا"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ، فَفَرِقْتُ مِنْ عُمَرَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَقُولُ:" هِيَ النَّخْلَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور وہ مسلمان کی طرح ہے اور اس کے پتے بھی نہیں جھڑتے، میں نے چاہا کہ کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ڈر گیا، بعد میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5955]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 5956 مسند احمد
أَسْوَدُ ، وَحُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، وَحُسَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ مَثَّلَ بِذِي الرُّوحِ، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ حُسَيْنٌ: مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور توبہ نہ کرے قیامت کا دن اللہ تعالیٰ اس کا بھی مثلہ کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5956]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 5957 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ تین مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرض نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5957]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 5958 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَحْمَّد: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ، فَقَالَ: لَا تَتَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی مکہ مکرمہ سے باہر کسی عورت سے نکاح کرنا چاہئے اور وہ حج یا عمرہ کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حالت احرام میں نکاح نہ کرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5958]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
حدیث نمبر: 5959 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مَقْتُولَةٍ، فَقَالَ:" مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ!" ثُمَّ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ یہ تو لڑنے والی نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5959]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، شريك سيئ الحفظ.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، شريك سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 5960 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا , يَقُولُ: جَاءَ وَاللَّهِ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟" فَقَالَ: نَعَمْ، وَزَادَهُمْ إِبْرَاهِيمُ الدُّبَّاءَ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ فِي حَدِيثِهِ وَالدُّبَّاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں، واللہ! ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5961 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، وَيَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَيَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 844.
الحكم: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 5962 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الضَّبِّ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے کھاتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1943.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1943.
حدیث نمبر: 5963 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ، عبد الله بن عمر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ , وَحَمْزَةَ , ابني عبد الله بن عمر، أن عبد الله بن عمر حدثهما، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشُّؤْمُ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نحوست تین چیزوں میں ہو سکتی تھی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5963]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2858، م: 2225، أبو أويس - وإن كان سيئ الحفظ- قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2858، م: 2225، أبو أويس - وإن كان سيئ الحفظ- قد توبع.
حدیث نمبر: 5964 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، زَمْعَةُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مؤمن کو ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5964]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة.
حدیث نمبر: 5965 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ كُلَّ طَوْفَةٍ، وَلَا يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پورے طواف میں صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے تھے، اس کے بعد والے دو کونوں کا استلام نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5965]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5966 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ:" مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى، إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نماز عصر کے بعد سورج ابھی جبل قعیقعان پر تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلے میں تمہاری عمریں ایسی ہیں جیسے دن کا یہ باقی حصہ کہ گزشتہ حصے کی نسبت بہت تھوڑا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 5967 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأَ وَيَرْقُدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا، یا رسول اللہ! اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں اور غسل کرنے سے پہلے سونا چاہوں، تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ دھو کرنماز والا وضو کر کے سو جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.