سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَدْرِي، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے، میں ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مار کر فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں، تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5949]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وروي موقوفا وهو أصح.
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وروي موقوفا وهو أصح.