بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2029
صفحہ 62 از 102
حدیث نمبر: 5668 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ قُمْتَ بِنَا مَعَهَا، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَبَضَ عَلَيْهَا قَبْضًا شَدِيدًا، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَقَابِرِ سَمِعَ رَنَّةً مِنْ خَلْفِهِ، وَهُوَ قَابِضٌ عَلَى يَدِي، فَاسْتَدَار بِي فَاسْتَقْبَلَهَا، فَقَالَ لَهَا شَرًّا، وَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آؤ، اس کے ساتھ چلیں، یہ کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو پیچھے سے کسی کے رونے کی آواز آئی، اس وقت بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، وہ مجھے لے کر پیچھے کی جانب گھومے اور اس رونے والی کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور اسے سخت سست کہا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنازے کے ساتھ کسی رونے والی کو جانے سے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5668]
حکم دارالسلام
حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
الحكم: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5669 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ عُمَرُ يَأْمُرُنَا بِالْمُقَامِ عَلَيْهِمَا مِنْ حَيْثُ يَرَاهَُا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفا مروہ پر کھڑے ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں صفا مروہ پر اس جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے جہاں سے خانہ کعبہ نظر آ سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5669]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5670 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سے کم اونٹوں میں، پانچ اوقیہ سے کم چاندی یا پانچ وسق میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5670]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5671 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ ، الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ ، أَبُو الْعَجْلَانِ الْمُحَارِبِيُّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَجْلَانِ الْمُحَارِبِيُّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْكَافِرَ لَيَجُرُّ لِسَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَاءَهُ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ، يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن کافر اپنی زبان اپنے پیچھے دو فرسخ کی مسافت تک کھینچ رہا ہو گا اور لوگ اسے روند رہے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5671]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو العجلان المحاربي مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، أبو العجلان المحاربي مجهول.
حدیث نمبر: 5672 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، بَرَكَةَ بْنِ يَعْلَى التَّيْمِيِّ ، أَبُو سُوَيْدٍ الْعَبْدِيُّ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ يَعْلَى التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُوَيْدٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا، قال: فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ، فَفَطِنَ بِي، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا، فَقَالَ: أَيُّكُمْ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي؟! قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ، فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسوید عبدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھر کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب اجازت ملنے میں دیر ہونے لگی تو میں نے ان کے گھرکے دروازے میں ایک سوراخ سے جھانکنا شروع کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چل گیا، چنانچہ جب ہمیں اجازت ملی اور ہم اندر جا کر بیٹھ گئے، تو انہوں نے فرمایا کہ ابھی ابھی تم میں سے کس نے گھر میں جھانک کر دیکھا تھا؟ میں نے اقرار کیا، انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے میرے گھر میں جھانکنا کیونکر حلال ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ جب ہمیں اجازت ملنے میں تاخیر ہوئی تب میں نے دیکھا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر نہیں۔ اس کے بعد ساتھیوں نے ان سے کچھ سوالات کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا، میں نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! جہاد کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: جو شخص مجاہدہ کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5672]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة بركة بن يعلى التيمي، وشيخه أبى سويد العبدي .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة بركة بن يعلى التيمي، وشيخه أبى سويد العبدي .
حدیث نمبر: 5673 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، سَالِمٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ"، وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِه ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب منبر پر بیٹھ کر طلب باران کر رہے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اترنے سے پہلے ہی سارے نالے بہنے لگتے، اس وقت جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ زیبا کو دیکھتا تو مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آتا۔ وہ سفید رنگت والا جس کی ذات کو واسطہ بنا کر بادلوں سے پانی برسنے کی دعاء کی جاتی ہے اور وہ شخص جو یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کا محافظ ہے، یاد رہے کہ یہ ابو طالب کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کہا گیا شعر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5673]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزة بن عبد الله ابن عمر.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزة بن عبد الله ابن عمر.
حدیث نمبر: 5674 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، عُمَرُ بْنُ حَمْزةَ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، صَالِحُ الْحَدِيثِ، ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128، قَالَ: فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ بددعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! فلاں پر لعنت نازل فرما، اے اللہ! حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ پر اپنی لعنت نازل فرما، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں، چنانچہ ان سب پر اللہ کی توجہ مبذول ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5674]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن حمزة .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن حمزة .
حدیث نمبر: 5675 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، مَهْدِيٌّ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَا جَالِسٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: هَا، انْظُرُوا إِلَى هَذَا! يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا"!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے میری موجودگی میں یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا عراق کا، انہوں نے فرمایا: واہ! اسے دیکھو، یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5994.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5994.
حدیث نمبر: 5676 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ، فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5676]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5677 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق و متحد) رہیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 350، م: 1820 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 350، م: 1820 .
حدیث نمبر: 5678 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِي النَّاسِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ جَوَادًا، فَأَلْقَى ثِيَابًا كَانَتْ عَلَيْهِ، وَلَبِسَ ثِيَابًا كَانَ يَأْتِي فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمُصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْحَدَرَ مِنْ مِنْبَرِهِ، وَقَامَ النَّاسُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: مَا أَحْدَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ؟ قَالُوا:" نَهَى عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: أَيُّ النَّبِيذِ؟ قَالَ: نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ"، قَالَ: فَقُلْتُ لِنَافِعٍ فَالْجَرَّةُ؟ قَالَ: وَمَا الْجَرَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْحَنْتَمَةُ، قَالَ: وَمَا الْحَنْتَمَةُ؟ قُلْتُ: الْقُلَّةُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالْمُزَفَّتُ؟ قَالَ: وَمَا الْمُزَفَّتُ؟ قُلْتُ: الزِّقُّ يُزَفَّتُ، وَالرَّاقُودُ يُزَفَّتُ، قَالَ: لَا، لَمْ يَنْهَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میں الصلوة جامعة کی منادی کروائی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچے، جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ اتارے کیونکہ وہ ان کپڑوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نہ جاتے تھے اور دوسرے کپڑے بدل کر مسجد کی طرف چل پڑے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اتر رہے تھے اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے پوچھا کہ آج نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی نیا حکم دیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نبیذ کی ممانعت کر دی ہے، انہوں نے پوچھا: کون سی نبیذ؟ لوگوں نے بتایا کدو اور لکڑی میں تیار کی جانے والی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا جرہ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا جرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے کہا حنتمہ، انہوں نے پوچھا حنتمہ کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے کہا مٹکا، انہوں نے فرمایا: اس کی ممانعت نہیں فرمائی، میں نے پوچھا مزفت کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے پوچھا مزفت کیا چیز ہوتی ہے؟ میں نے بتایا کہ ایک مشکیزہ ہوتا ہے جس پر لک مل دی جاتی ہے، انہوں نے فرمایا: اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف کدو اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1997.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5679 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ،" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟" قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ، قَالَ:" فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اے لوگو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کا حکم نازل فرمایا ہے کہ جو میری اطاعت کرے گا گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، آپ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ بھی اللہ کی اطاعت کا حصہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور یہ میری اطاعت کا حصہ ہے کہ تم اپنے ائمہ کی اطاعت کرو، اپنے ائمہ کی اطاعت کیا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5679]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5680 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٌ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ شاء فَلْيَسْتَبْقِ عَلَى وَجْهِهِ، وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ، تَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مانگنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن خراشیں ہوں گی اس لئے جو چاہے اپنے چہرے کو بچا لے، سب سے ہلکا سوال قریبی رشتہ دار سے سوال کرنا ہے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے کوئی شخص کرے اور بہترین سوال وہ ہے جو دل کے استغناء کے ساتھ ہو اور تم دینے میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کے تم ذمہ دار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5681 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان اس وقت دین کے اعتبار سے کشادگی میں رہتا ہے جب تک ناحق قتل کا ارتکاب نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2862.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2862.
حدیث نمبر: 5682 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ، وَقَالَ لِيَحْيَى: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا مِنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهْمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِقَتْلٍ، وَإِنْ أَرَدْتُمْ ذَبْحَهَا فَاذْبَحُوهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے، اس وقت یحییٰ کا کوئی لڑکا ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مرغی کے پاس پہنچ کر اسے کھول دیا اور مرغی کے ساتھ اس لڑکے کو بھی لے آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے اس لڑکے کو کسی بھی پرندے کو اس طرح باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے روکو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی چوپائے یا جانور کو باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اگر تم اسے ذبح کرنا ہی چاہتے ہو تو صحیح طرح ذبح کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5514.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5514.
حدیث نمبر: 5683 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا" نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امیہ بن عبداللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن سفر کی نماز کا تذکرہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے؟) انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا، ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو وہ ہی کریں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5683]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5684 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنُ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: هَكَذَا، يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تعریف کی تو انہوں نے اس کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کر دی اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم کسی کو اپنی تعریف کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے منہ میں مٹی بھر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5684]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 5685 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ فِي خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش تھا۔ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5686 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ مُؤَذِّنَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو مؤذن تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5687 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَا فَتَكَلَّمَا، ثُمَّ قَعَدَا، وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ،" قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کھڑے ہو کر گفتگو کی، پھر وہ دونوں بیٹھ گئے (اور خطیب رسول سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کر کے بیٹھ گئے) لوگوں کو ان کی گفتگو پر بڑا تعجب ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: لوگو! اپنی بات عام الفاظ میں کہہ دیا کرو، کیونکہ کلام کے ٹکڑے کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.