بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5675
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5675
حدیث نمبر: 5675 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النَّضْرِ ، مَهْدِيٌّ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَا جَالِسٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: هَا، انْظُرُوا إِلَى هَذَا! يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا"!!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے میری موجودگی میں یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا عراق کا، انہوں نے فرمایا: واہ! اسے دیکھو، یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5994.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5994.
← پچھلی حدیث (5674) باب پر واپس اگلی حدیث (5676) →