أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَحْمَّد: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ، فَقَالَ: لَا تَتَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی مکہ مکرمہ سے باہر کسی عورت سے نکاح کرنا چاہئے اور وہ حج یا عمرہ کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حالت احرام میں نکاح نہ کرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5958]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.