يَزِيدُ ، أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِأَخَرَةٍ الْآنَ وَلَلدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہم نے ایک زمانہ وہ دیکھا ہے جب ہماری نظروں میں درہم و دینار والا اپنے غریب مسلمان بھائی سے زیادہ حقدار نہ ہوتا تھا اور اب ہم یہ زمانہ دیکھ رہے ہیں کہ جس میں دینار و درہم ایک مسلمان بھائی سے زیادہ عزیز ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5562]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب كثير الأوهام.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب كثير الأوهام.