إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ نْهَزَمْنَا فِي أَوَّلِ عَادِيَةٍ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ لَيْلًا، فَاخْتَفَيْنَا، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَذَرْنَا إِلَيْهِ؟ فَخَرَجْنَا، فَلَمَّا لَقِينَاهُ قُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ، وَأَنَا فِئَتُكُمْ"، قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ:" وَأَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کسی سریہ میں روانہ فرمایا، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو ہم پہلے ہی مرحلے پر بھاگ اٹھے اور رات کے وقت ہی کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئے اور روپوش ہو گئے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چل کر ان سے اپنا عذر بیان کرتے ہیں، چنانچہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو، میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔ میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5895]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، ويزيد بن أبي زيد مولى الهاشميين.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، ويزيد بن أبي زيد مولى الهاشميين.