يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں، البتہ جمعہ اور مغرب کے بعد اپنے گھر میں نماز پڑھتے تھے اور میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن وہ ایسا وقت ہوتا ہے تھا جس میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں نہیں جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1172، م: 729
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1172، م: 729