بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5089
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5089
حدیث نمبر: 5089 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، رَجُلٌ ، فُلَانٌ ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ" فَنُووِلَ ذِرَاعًا، فَأَكَلَهَا، قَالَ يَحْيَى: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ" فَنُووِلَ ذِرَاعًا، فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَالَ" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ، فَقَالَ:" وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَالِمٌ : أَمَّا هَذِهِ فَلَا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ روٹی اور گوشت کھانے میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک دستی دینا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دستی دے دی گئی، جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تناول فرما لی اس کے بعد فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی تناول فرما لیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو، کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ!! ایک بکر ی میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ کی قسم! اگر تو خاموش رہتا تو میں جب تک تم سے دستی مانگتا رہتا مجھے ملتی رہتی، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا: یہ بات تو بالکل نہیں ہے کیونکہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5089]
حکم دارالسلام
هذا الحديث حديثان: قصة الذراع، وإسنادها ضعيف لإبهام الرجل الغفاري، ولكن لها شاهد من حديث أبى هريرة سيرد 2/ 517 وإسناده حسن، والحديث الثاني: النهي عن الحلف بالآباء وإسناده صحيح، م: 1646.
الحكم: هذا الحديث حديثان: قصة الذراع، وإسنادها ضعيف لإبهام الرجل الغفاري، ولكن لها شاهد من حديث أبى هريرة سيرد 2/ 517 وإسناده حسن، والحديث الثاني: النهي عن الحلف بالآباء وإسناده صحيح، م: 1646.
← پچھلی حدیث (5088) باب پر واپس اگلی حدیث (5090) →