جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، حَبِيبٍ ، طَاوُسٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ؟ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وتر ضروری نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6258]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 473، م: 749 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 473، م: 749 .