إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ"، فَقَالَ: أَوَلَسْتَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ:" إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (رمضان کے مہینے میں) ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے لوگوں کو روکا، تو وہ کہنے لگے کہ کیا آپ اس طرح نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1962، م: 1102.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1962، م: 1102.