يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْحَارِثِ بْنُ عُبَيْدٍ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثِ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟! , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ دوران سفر روزہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں تم سے حدیث بیان کروں تو تم اس پر عمل کرو گے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تھے تو نماز میں قصر فرماتے اور واپس آنے تک روزہ نہ رکھتے تھے (بعد میں قضاء کر لیتے تھے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5750]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه الحارث بن عبيد أبو قدامة الإيادي وبشر بن حرب، وفيهما ضعف.
الحكم: إسناده ضعيف، فيه الحارث بن عبيد أبو قدامة الإيادي وبشر بن حرب، وفيهما ضعف.