عَبْدَةُ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ,عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: وَهِلَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ:" إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَتْ هَذِهِ الآيَةَ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے“، کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1286، م: 928.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1286، م: 928.