وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ دَعَا غُلَامًا لَهُ، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ: مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ مِثْلُ هَذَا، لِشَيْءٍ رَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1657
الحكم: إسناده صحيح، م: 1657