عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَالِمٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْكَلْبِيِّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے تاآنکہ قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہو گئی کہ انہیں ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4782، م :2425.
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4782، م :2425.