حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، أَبِي جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ"، وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ؟ قَالَ:" لَا بَأْسَ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے، ایک درہم کو دو کے بدلے اور ایک صاع کو دو صاع کے بدلے مت بیچو، کیونکہ مجھے تمہارے سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے“، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے، اگر کوئی آدمی ایک گھوڑا کئی گھوڑوں کے بدلے یا ایک شریف الاصل اونٹ دوسرے اونٹ کے بدلے بیچے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5885]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي جناب.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي جناب.