مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، فَإِنَّ تُجَاهَهُ الرَّحْمَنُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے اور نہ ہی دائیں جانب کرے، البتہ بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے کر سکتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5745]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، لكن تابعه على معنى حديثه ابن أبي داود فيما سلف برقم: 4908.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، لكن تابعه على معنى حديثه ابن أبي داود فيما سلف برقم: 4908.