يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، رَقَبَةَ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَشَدَّ يَدَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلا جارہا تھا، راستے میں ان کا گزر ایک کٹے ہوئے سر پر ہوا، جو سولی پر لٹکا ہوا تھا، اسے دیکھ کروہ فرمانے لگے کہ اسے قتل کرنے والا شقی ہے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنا ہاتھ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا جو امتی کسی کو قتل کرنے کے لئے نکلے اور اسی طرح کسی کو قتل کر دے (جیسے اس مقتول کا سر لٹکا ہوا ہے) تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5708]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة مجهول.