زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيَرَاءِ، أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ، فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ، فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا، فَسَحَبْتُهُ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ، فَتَقَنَّعْتُ بِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بن عمر،" ارْفَعْ الْإِزَارَ، فَإِنَّ مَا مَسَّتْ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ان ریشمی جوڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا جو فیروز نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تھے، میں نے تہبند باندھا تو صرف اسی نے طول و عرض میں مجھے ڈھانپ لیا، میں نے اسے لپیٹا اور اوپر سے چادر اوڑھ لی اور اسے پہن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری گردن پکڑ کر فرمایا: ”اے عبداللہ! تہبند اوپر کرو، ٹخنوں سے نیچے شلوار کا جو حصہ زمین پر لگے گا وہ جہنم میں ہو گا“، عبداللہ بن محمد راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی انسان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے ٹخنے ننگے رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5713]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.